ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 183

ہونے کے کوئی آثار ہی پائے جاتے تو بھی ا ن کو مان لینے کی ایک راہ ہوتی۔مگر وہ تواب باتیں ہی باتیں اورنر ے دعوے ہی دعوے ہیں۔مگر ہم توآجکل کی موجودہ اورزندہ مثال پیش کرتے ہیں۔سوال۔ڈوئی کے اس انجام کا تو ہر شخص انداز ہ لگاسکتا تھا کیونکہ اس نے ایک جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور یہ صاف بات ہے کہ جھوٹا مدعی ذلیل ہواکرتا ہے۔ہم تو آپ کے دعویٰ کی عظمت کی وجہ سے یہاں آئے ہیں کہ اتنا بڑا دعویٰ کرنے والا انسان کیسا ہوگا نہ یہ کہ آپ کے لئے نشان بننے کے واسطے آئے ہوں۔جواب۔فرمایاکہ اگر ڈوئی کوآپ لوگ ایسا ہی سمجھتے تھے اورجانتے تھے کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اورخدا پر بہتان باندھ رہا ہے توپھر کیا اسی یقین سے آ پ لوگوں نے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپوں کے نذرانے اسے دیئے؟ اوربیش قیمت تحائف اس کے واسطے دور دراز سے مہیا کئے؟ اوراس کی حد سے زیادہ عزت کی؟ حتی کہ دس ہزا رسے بھی زیادہ لوگ اس کے مرید بن گئے۔تعجب کی بات ہے کہ ایک انسان کو باوجود جھوٹا یقین کرنے کے بھی کوئی یہ عزت وعظمت دیتا ہو؟ اور اپنا مال وجان اس پر نثار اورتصدق کرتا ہو؟ امر دوم کے لئے ان کو سنانا چاہیے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک فرد واحد بھی ہمارا واقف نہ تھا اور کسی کو ہمارے وجود کا علم تک بھی نہ تھا بلکہ بہت کم لوگ تھے جن کو قادیان کے نام سے بھی اس وقت واقفیت ہوگی حتی کہ ہماری طرف کسی کا خط تک بھی نہ آتا تھا اورہم ایک گمنامی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہواکہ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ اور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ اور وَلَاتُصَعِّرْ لِـخَلْقِ اللہِ وَلَاتَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ اوربعض اس مضمون کے الہام زبان انگریزی میں بھی تھے۔حالانکہ ہم زبان انگریزی سے بالکل ناآشنا ہیں اوریہ سب خبریں اس زمانہ کی ہیں جبکہ ان کے کچھ بھی آثار موجود نہ تھے اورہماری اس وقت کی حالت کو دیکھنے اورجاننے والے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس حالت میں ایسی خبروں کے امکان کا وہم وگمان بھی نہیں ہوسکتا تھا بلکہ ان الہامات کے بعد اندرونی اوربیرونی طورسے یعنی خود