ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 174

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۴ جلد دہم کاشت کیا جانے پر بھی تو نہیں اگتا اور نہیں بارور ہوتا اسی طرح سے بد بخت لوگ جن پر فرد جرم شقاوت کا لگ چکا ہے خدا کے انعامات اور نشانات کے وارث نہیں ہو سکتے ۔ بھلا نبی سے بڑھ کر اور کون ہوگا ؟ سارا قرآن شریف تدبر سے پڑھ کر دیکھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے فیض کے حصول کے جو سامان مقرر فرمائے ہیں انہی کی پیروی سے وہ فیضان ملے گا اور ان کی خلاف ورزی کرنے سے ہرگز ہر گز ممکن نہیں کہ کوئی خدا کے فیض کا وارث ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُم شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (هود:۱۰۶) یعنی انسان بلحاظ اپنی استعدادوں کے دو طرح کے ہیں۔ ایک تو وہ گروہ جس کو ایسے سامانوں کے جمع کرنے میں اور ایسے اعمال بجالانے کی توفیق ہوتی ہے جو فیوض و برکات الہی کے انوار کے جاذب ہوتے ہیں اور وہ سعید کے نام سے پکارے جاتے ہیں ۔ دوسرے وہ جن کے اعمال بد اور خبث باطن ان کی ترقیوں کے آگے روک ہو کر ان کو اعمال صالحات اور خدائی فیوض و برکات سے دور و مہجور کر دیتے ہیں اب بھی دیکھ لو کہ خوب زور سے تائیدات سماوی اور نشانات کی ایک بارش ہو رہی ہے اور ایک سیلاب کی طرح ترقی ہو رہی ہے مگر اس میں بھی وہی داخل ہو سکتے ہیں جن کی روحوں میں سعادت کا حصہ ہے۔ شقی اور بد بخت لوگ باوجود ہزار ہا نشانات کے دیکھنے کے ان میں بھی وساوس شیطانی کو داخل کر کے سعادت اور قبول حق سے محروم رہ جاتے ہیں اور خدا کا بھی یہی منشا ہے کہ بعض سعادت کی وجہ سے سعید اور بعض شقاوت کی وجہ سے شقی ہو کر یہ اختلاف قیامت تک برابر قائم رہے۔ پس جن کو خدا تعالیٰ کا منشا ہی ہماری جماعت سے باہر رکھنے کا ہو اس کو ہم کیسے ہدایت دے سکتے ہیں۔ دیکھو! کسی خاص شخص کی پروا نہ خدا کو منظور ہوا نشانات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں کرتی ہے اور نہ ہی اس کے رسول کسی خاص شخص کی ہدایت کے لئے زور دیا کرتے ہیں بلکہ ان کی دعائیں اور اضطراب عام خلق خدا کے واسطے ہوتے ہیں۔ دیکھو! رسول اکرم سے بھی معجزات مانگے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے کیا جواب دیا ؟ وَقَالُوا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ (الانعام : ٣٨) قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ (الانعام : ١١٠) اللہ تعالی نے اقتراح کو منع کیا ہے اور تجربہ بتاتا ہے کہ اقتراح کرنے والے لوگ ہمیشہ ہدایت سے