ملفوظات (جلد 10) — Page 173
ملفوظات حضرت مسیح موعود انسان پورا اور کامل پر ہیز گار نہ ہو۔ ۱۷۳ جلد دہم لوگوں نے بعض اولیاء کی نسبت بعض جھوٹے قصے کہانیاں بنا رکھی ہیں وہ بھی مخلوق کی راہ میں بڑا بھاری پتھر اور روک ہو جاتے ہیں اور بہتوں کی ٹھوکر کا باعث ہو جاتے ہیں۔ دیکھو! حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی ایک قصہ ایسا گھڑ رکھا ہے کہ ایک چور ان کے سامنے آیا اور انہوں نے گویا ایک ہی پھونک سے اس کو ولی اور قطب بنا دیا تھا۔ یا د رکھو کہ کوئی بھی کبھی بجز اپنے اوپر ایک موت وارد کرنے اور پوری اتباع سنت کے کسی خاص اور اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا۔ ہاں البتہ یہ بھی صحیح ہے کہ استعداد کے سوا کچھ نہیں ہو فیضان بھی استعداد پر ہوتے ہیں سکتا۔ بعض طبیعتیں اور استعدا میں اس قسم کی الہ تعالی نے بنائی ہوتی ہیں اور ان میں ایسا مادہ رکھا ہوتا ہے کہ نخوت ، تکبر ، عجب ، پندار وغیرہ رذیل اخلاق ان سے خود بخود آسانی سے نکل جاتے ہیں اور ایک فانی اور لائے بن جاتے ہیں اور جس طرح سے ایک دانہ زمین میں مل کر پہلے خاک ہو جاتا ہے تو پھر خدا اس کو قدرت سے بڑھاتا ہے۔ اسی طرح سے وہ لوگ بھی اول اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں کھو دیتے ہیں۔ جب خدا ان کو پھر زندہ کرتا ہے اور بڑھاتا اور پھیلاتا ہے اور ان کی قبولیت دنیا کے دلوں میں بڑھا دیتا ہے۔ پس اس طرح سے جو انسان کل مشکلات کو جو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے امتحان کے واسطے وقتاً فوقتاً وارد ہوں ان کی برداشت کر لیتا ہے اور اپنی طرف سے کوئی خاص حدود اور شرائط نہیں مقرر کرتا بلکہ خدا پر چھوڑ دیتا ہے تو خدا اس کو اپنے فضل سے وہ کچھ دکھا دیتا ہے جس سے اس کا ایمان قوی اور مضبوط ہوجاتا ہے اور سلیم قلب حاصل ہو جاتا ہے مگر جو لوگ ضد کرتے ہیں اور خدا کو اپنے ارادوں کے ماتحت چلانے کی خواہش کرتے ہیں وہ لوگ محروم رہ جاتے ہیں اور پھر خدا ایسے لوگوں کی پروا ہی کیا رکھتا ہے وہ بے نیاز ہے۔ اس کے کروڑوں بندے ہیں اگر نہیں مانتا تو نہ سہی وہ بھی جہنمی گروہ میں داخل کر دیا جاتا ہے خدا نشان دکھانے میں بندے کی خواہش اور ارادے کے ماتحت نہیں ہوتا۔ فیضان بھی استعداد پر پر ہوا ہوا کرتے ہیں۔ (مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا) جس طرح سے ایک کھایا ہوا دانہ زمین میں باقاعدہ طور سے