ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 172

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد دہم ملا بھی جسے تم تلاش کرتے تھے؟ وہ چپکا ہی رہ گیا اور کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہمارے عقیدے کے موافق تو یہ بات ہے کہ نہ اللہ نے اور نہ ہی اس کے رسول نے کسی نے بھی یہ راہ نہیں سکھائی ۔ دیکھو ! صحابہؓ نے کس قدر کوششیں کی ہیں جس کی قسمت میں ہی ایسا ہو کہ اس کی عمر ضائع ہو وہ کتاب اللہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔ قرآن شریف پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا کہ خدا اس شخص پر بھی راضی ہوتا ہے جو اس کی رضامندی کی راہوں سے غافل اور لا پرواہی کرنے والا ہو ۔ خدا تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کی جو راہیں مقرر کر دی ہیں۔ انہیں کے اختیار کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے۔ صاف طور سے اس نے یہ دعا سکھا دی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : ٦ ) دیکھو! انسان انسان سے خوش ہو کر اس کو انعامات عطا کرتا ہے تو کیا خدا اپنی رضا مندی کی راہوں پر چلنے والوں اور اس کی تلاش کرنے والوں سے محبت نہیں کرے گا ؟ مگر استعداد بھی ہو اس کے فیوض کے لینے کی۔ ایک گندہ پھوڑا جس میں پیپ اور گندے مواد بھرے ہوں ۔ اس پر کیسے رحم کیا جاوے؟ دیکھو ! صحابہؓ نے حق فرماں برداری اور رضا جوئی ادا کیا تھا اور وہ ایک عمدہ نمونہ اور اعلیٰ مثال ہیں ۔ اس ثبوت کے واسطے انہوں نے کس طرح اپنی جانیں قربان کر دیں ، اطاعت کی ، خون کی ندیاں بہادیں تو وہ بھی ان کی اس حالت پر کیسا راضی ہو گیا۔ جتنے بھی بزرگ اور اولیاء گذرے ہیں وہ سب مجاہدات اور ریاضات میں اپنے اوقات گذراتے تھے ۔ دیکھو! با وافرید صاحب اور اور جتنے بھی اولیاء اور ابدال گذرے ہیں یہ سب گروہ ایک وقت تک خاص ریاضات اور مجاہدات شاقہ کرنے کی وجہ سے ان مدارج پر پہنچے ہیں اور ان لوگوں نے بڑی سختی سے اور پورے طور سے اتباع سنت کی ہے جب جا کر ان کی مشیخت ، ننگ و ناموس اور خواہ نخواہ کی کبریائی نکلی اور وہ گویا کہ سوئی کے ناکے میں سے ہوکر نکلے ہیں جس سے ہمیشہ ایسے لوگ نکلا کرتے ہیں جب جا کر کہیں ان لوگوں کو یہ حالتیں نصیب ہوئی ہیں۔ دعا ئیں بھی انہی لوگوں کی قبول ہوتی ہیں ورنہ دیکھو جس طرح سے ایک حکیم کی دوائی بجز پر ہیز کرنے کے مؤثر نہیں ہوتی اسی طرح سے دعا کی قبولیت کا بھی یہی راز ہے۔ دعا کچھ بھی اثر نہیں کر سکتی جب تک