ملفوظات (جلد 10) — Page 172
ملا بھی جسے تم تلاش کرتے تھے ؟وہ چپکا ہی رہ گیا اور کچھ جواب نہ دے سکا۔ہمارے عقیدے کے موافق تویہ بات ہے کہ نہ اللہ نے اورنہ ہی اس کے رسولؐ نے، کسی نے بھی یہ راہ نہیں سکھائی۔دیکھو! صحابہؓ نے کس قدر کوششیں کی ہیں جس کی قسمت میں ہی ایسا ہوکہ اس کی عمر ضائع ہو وہ کتاب اللہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔قرآن شریف پڑھ کر دیکھ لو اس میں کہیں بھی ایسا نہیں ملے گا کہ خدا اس شخص پر بھی راضی ہوتا ہے جو اس کی رضامندی کی راہوں سے غافل اور لاپرواہی کرنے والا ہو۔خدا تعالیٰ نے اپنی رضامندی کی جو راہیں مقرر کردی ہیں۔انہیں کے اختیار کرنے سے وہ راضی ہوتا ہے۔صاف طور سے اس نے یہ دعا سکھا دی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ :۶) دیکھو! انسان انسان سے خوش ہوکر اس کو انعامات عطاکرتا ہے توکیا خدا اپنی رضامندی کی راہوں پر چلنے والوں اوراس کی تلاش کرنے والوں سے محبت نہیں کرے گا؟ مگر استعداد بھی ہو اس کے فیوض کے لینے کی۔ایک گندہ پھوڑا جس میں پیپ اور گندے مواد بھرے ہوں۔اس پر کیسے رحم کیا جاوے؟ دیکھو! صحابہ ؓ نے حق فرماں برداری اوررضاجوئی اداکیا تھا اوروہ ایک عمدہ نمونہ اوراعلیٰ مثا ل ہیں۔اس ثبوت کے واسطے انہو ں نے کس طرح اپنی جانیں قربان کردیں، اطاعت کی، خون کی ندیاں بہادیں تو وہ بھی ان کی اس حالت پرکیسا راضی ہوگیا۔جتنے بھی بزرگ اوراولیاء گذرے ہیں وہ سب مجاہدات اورریاضات میں اپنے اوقات گذراتے تھے۔دیکھو! باوافرید صاحب اور اَور جتنے بھی اولیاء اورابدال گذرے ہیں یہ سب گروہ ایک وقت تک خاص ریاضات اورمجاہداتِ شاقہ کرنے کی وجہ سے ان مدارج پر پہنچے ہیں اور ان لوگوں نے بڑی سختی سے اورپورے طورسے اتباع سنّت کی ہے جب جاکر ان کی مشیخت، ننگ وناموس اورخواہ نخواہ کی کبریائی نکلی اور وہ گویاکہ سوئی کے ناکے میں سے ہوکر نکلے ہیں جس سے ہمیشہ ایسے لوگ نکلا کرتے ہیں جب جاکر کہیں ان لوگوں کو یہ حالتیں نصیب ہوئی ہیں۔دعائیں بھی انہی لوگوں کی قبول ہوتی ہیں ورنہ دیکھو جس طرح سے ایک حکیم کی دوائی بجز پرہیز کرنے کے مؤثر نہیں ہوتی اسی طرح سے دعا کی قبولیت کابھی یہی راز ہے۔دعا کچھ بھی اثر نہیں کرسکتی جب تک