ملفوظات (جلد 10) — Page 170
رحمان ہونا ظاہر <mark>کر</mark>تا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النجم :۴۰) اور وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) فرما <mark>کر</mark> اپنے فیض کوسعی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا طرز عمل ہ<mark>مار</mark>ے واسطے ایک اسو ہ حسنہ اورعمدہ نمونہ ہے۔صحابہؓ کی زندگی میں غور <mark>کر</mark>کے دیکھو۔بھلاانہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل <mark>کر</mark> لیے تھے؟ نہیں! بلکہ انہوں نے تو خدا کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی اوربھیڑ ب<mark>کر</mark>یوں کی طرح خدا کی راہ میں قربان ہوگئے جب جا <mark>کر</mark> کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک <mark>پھونک</mark> <mark>مار</mark> <mark>کر</mark> ان کو وہ درجات دلادئیے جاویں اورعرش تک ان کی رسائی ہوجاوے۔ہ<mark>مار</mark>ے رسول ا<mark>کر</mark> مؐ سے بڑھ <mark>کر</mark> کون ہوگا وہ افضل البشر افضل الرسل والا نبیاء تھے جب انہوں نے ہی <mark>پھونک</mark> سے وہ کام نہیں کئے تو اورکون ہے جو ایسا <mark>کر</mark>سکے؟ دیکھو! آپ نے غارِ حرا میں کیسے کیسے ریاضات کئے۔خداجانے کتنی مدت تک تضرّعات اورگریہ وزاری کیا کئے۔تزکیہ کے لئے کیسی کیسی جانفشانیاں اور سخت سے سخت محنتیں کیا کئے جب جا<mark>کر</mark> کہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے فیضان نازل ہوا۔اصل بات یہی ہے کہ انسان خدا کی راہ میں جب تک اپنے اوپر ایک موت اور حالت فنا وارد نہ <mark>کر</mark>لے تب تک ادھر سے کوئی پروانہیں کی جاتی۔البتہ جب خدادیکھتا ہے کہ انسان نے اپنی طرف سے کمال کوشش کی ہے اور میرے پانے کے واسطے اپنے اوپر موت وارد <mark>کر</mark>لی ہے تو پھر وہ انسان پر خود ظاہر ہوتا ہے اور اس کو نوازتا اور قدرت نمائی سے بلند <mark>کر</mark>تا ہے۔دیکھو قرآن شریف میں ہے۔وَفَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ عَلَى الْقٰعِدِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا(النّسآء :۹۶) قاعدین یعنی سست اورمعمولی حیثیت کے لوگ اورخدا کی راہ میں کوشش اور سعی <mark>کر</mark>نے والے ایک برابر نہیں ہوتے۔یہ تجربہ کی بات ہے اورسالہائے دراز سے ایسا ہی دیکھنے میں آرہا ہے۔انسان دنیا میں دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تووہ جن کوبدقسمتی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ بعض اولیاء