ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 169

دے چکے ہیں۔وہ خط حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرکے اس کے متعلق استفتاء دریافت کیا۔ملک صاحب موصو ف نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ چونکہ میںنے حضور کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کرلیا ہے اس واسطے اگر اب یہ مسئلہ دین کے کسی رنگ میں بھی مخالف ہوتو میں خوشی سے اس سے دست بردار ہونا چاہتا ہوں۔حضرت اقدسؑ نے فرما یا کہ ہم تو اس کے جواز کی کوئی <mark>راہ</mark> نہیں پاتے۔جونقصان ہوچکا ہے وہ <mark>خدا</mark> کی <mark>راہ</mark> میں نقصان سمجھ کر آئندہ گناہ سے توبہ کرلینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ اجر دینے والا ہے۔اصل میں یہ بھی ایک قمار بازی ہے۔۱ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۸ء (قبل نماز ظہر ) مجاہدہ اورریاضت کی ضرورت پیر عبداللہ شاہ صاحب ساکن پنڈ صاحب خاں ضلع اٹک جو کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ایک معزز خلیفہ ہیں اور ان کو پیر صاحب موصوف کی طرف سے بیعت لینے کی بھی اجازت ہے دو تین دن سے قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔انہوں نے آج حضرت اقدس کی خدمت میں نہایت ادب اور حق جوئی اور اطمینانِ قلب کی خاطر یوں عرض کی کہ ’’<mark>خدا</mark> کے بندوں کے ساتھ <mark>خدا</mark>کے نشان ہوتے ہیں اورآپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مامورومرسل بنا کر دنیا میں بھیجا ہے اورآ پ کے ہزاروں نشان ظاہر ہوچکے ہیں مگر چونکہ میں ایک بہت دور دراز ملک کا رہنے والا ہوں اورہم نے آپ کے ان نشانات سے کوئی حصہ نہیں لیا جس <mark>طرح</mark> آپ کی موجودہ جماعت کے لوگوں نے آ پ کے نشانات کودیکھا ہے۔لہٰذا میری عرض یہ ہے کہ کوئی نشان دکھایا جاوے جوکہ ہمارے اطمینانِ قلب اور ترقی ایمان کا باعث ہو۔‘‘ فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ اَمر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تواللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم، رحم، لطف اورمہربانیوں کی صفات بیان کرتا ہے اور ۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۵مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱