ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 168

جانے کا ارادہ ہے کیونکہ میں گرمی کی برداشت نہیں کرسکتا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ موسم تو کوئی بھی اللہ تعالیٰ نے بے فائدہ نہیںبنایا۔آپ نے جہاں جسمانی تپش سے بچنے کا فکر کیا ہے اور آرام وآسائش کی راہیں سوچی ہیں وہاں چند روز یہاں رہ کر روحانی تپش کی اصلاح کے واسطے بھی غورکریں۔ہمارا کام صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعاکرنا ہے قبل عصر ایک شخص نے اپنی کچھ حاجات تحریری طور سے پیش کیں۔حضرت اقدسؑ نے پڑھ کر جواب میں فرمایا کہ اچھا ہم دعا کریں گے۔تووہ شخص کسی قدر متحیر ہوکر پوچھنے لگا۔آپ نے میری عرضداشت کا جواب نہیں دیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم نے تو کہا ہے کہ دعاکریں گے اس پر وہ شخص بولا کہ حضور کوئی تعویذ نہیں کیا کرتے؟ فرمایا۔تعویذ گنڈے کرنا ہماراکام نہیں ہے۔ہمارا کام توصرف اللہ کے حضور دعاکرنا ہے۔۱ ۳۰؍مارچ ۱۹۰۸ء (قبل از عصر) لائف انشورنس ملک مولا بخش صاحب کا ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بدیں مضمون آیا تھا کہ لائف انشورنس کی کسی کمپنی میں وہ حضرت اقدسؑ کے سلسلہ بیعت میں داخل ہونے سے کئی سال پیشتر سے ممبر ہیں اور کہ وہ قریب چھ سوروپیہ کے اس کمپنی کو ۱الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۵مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱