ملفوظات (جلد 10) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد دہم فرمایا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کو ظالم آرام کی زندہ زندگی بسر کرنے کا طریق مت کہو بلکہ خود اپنے آپ کو وسو۔ بادشاہ یا حاکم کو مت کو سو ۔ اگر تم اپنی حالت کو سنوار لو تو حاکم بھی نرم اور رحمدل ہو جاویں گے اگر کسی کا حاکم ظالم اور جابر ہے تو وہ جان لے کہ اس کے اعمال ہی اس لائق ہیں ۔ قرآن شریف نے کیا پاک اصول قائم کیا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: ۱۲) جب انسان پر خدا کی طرف سے ہی فرد جرم لگ جاوے تو کون ہے جو اس کی رعایت کرے اور بچا سکے؟ حکام خدا کے قہر اور رحم کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اگر خدا خوش ہو تو حکام کے دل میں خود بخو درحم پیدا ہو جاتا ہے اور اگر خدا ہی ناراض ہے تو پھر انسان خود وا جب سزا ہے کسی کے کیا بس کی بات ! پس اگر تم اس دنیا میں آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو خدا کی طرف جھک جاؤ اور اپنی اصلاح کرلو اور پورے طور سے خدا کے ہو جاؤ مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللهُ له ۔ پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔ اصل بات یہی ہے کہ خدا خوش ہو تو سب خوش ہو جاتے ہیں۔ خدا کا راضی کرنا مقدم ہے۔ نادر شاہ کے حملہ کے وقت دلی کے بعض عقلمندوں نے کیا خوب کہا ہے۔ شوقی اعمال ما صورت نادر گرفت ع ۲۹ مارچ ۱۹۰۸ء (قبل از ظهر ) ایک معزز صاحب جو حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوستوں ایک دل آویز نصیحت میں سے ہیں اور رامپور میں قیام رکھتے ہیں ۔ رامپور سے کانگڑہ تشریف لے جارہے تھے حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے واسطے قادیان بھی تشریف لائے حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ذکر کیا کہ گرما کی شدت کی میں برداشت نہیں کر سکتا اور تمام گرما اپریل سے نومبر تک کانگڑہ میں جہاں میرے چاہ کے باغ ہیں بسر کرتا ہوں اور آج ہی واپس الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء صفحه ۸،۷