ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 167

آرام کی زندگی بسر کرنے کا طریق فرمایا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کو ظالم مت کہو بلکہ خود اپنے آپ کو کو سو۔بادشاہ یا حاکم کو مت کوسو۔اگر تم اپنی حالت کو سنوارلوتو حاکم بھی نرم اور رحمدل ہوجاویں گے اگر کسی کا حاکم ظالم اورجابر ہے تووہ جان لے کہ اس کے اعمال ہی اس لائق ہیں۔قرآن شریف نے کیا پاک اصول قائم کیا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ(الرعد:۱۲) جب انسان پر خدا کی طرف سے ہی فردِ جرم لگ جاوے تو کون ہے جو اس کی رعایت کرے اوربچاسکے؟ حکام خدا کے قہر اور رحم کا نمونہ ہوتے ہیں۔اگر خدا خوش ہوتو حکام کے دل میں خود بخود رحم پیدا ہو جاتا ہے اوراگر خداہی ناراض ہے توپھر انسان خود واجب سزاہے کسی کے کیا بس کی بات! پس اگر تم اس دنیا میں آرام کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہوتو خدا کی طرف جھک جائو اوراپنی اصلاح کرلو اور پورے طور سے خداکے ہوجائو مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ جے توں میرا ہورہیں سب جگ تیراہو۔اصل بات یہی ہے کہ خدا خوش ہوتو سب خوش ہوجاتے ہیں۔خدا کا راضی کرنا مقدم ہے۔نادرشاہ کے حملہ کے وقت دلی کے بعض عقلمندوں نے کیا خوب کہا ہے۔ع شومیٔ اعمال ما صورت نادر گرفت۱ ۲۹؍مارچ ۱۹۰۸ء (قبل از ظہر ) ایک دل آویز نصیحت ایک معزز صاحب جو حضرت حکیم الامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوستوں میں سے ہیں اور رامپور میں قیام رکھتے ہیں۔رامپور سے کانگڑہ تشریف لے جارہے تھے حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے واسطے قادیان بھی تشریف لائے حضرت اقدسؑ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ذکر کیا کہ گرما کی شدت کی میں برداشت نہیں کرسکتا اور تمام گرما اپریل سے نومبر تک کانگڑہ میں جہاں میرے چاہ کے باغ ہیں بسر کرتا ہوں اورآج ہی واپس ۱ الحکم جلد ۱۲نمبر ۲۲مورخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷،۸