ملفوظات (جلد 10) — Page 166
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۶ جلد دہم میں مساوات نہیں رکھی ۔ مردوں کو ترجیح دی ہے ۔ فرمایا ۔ تعصب اور حق کی مخالفت نے ان کو اندھا کر دیا ہے ایسا کہتے ان کو شرم نہیں آتی ا۔ ۔ پہلے اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر دیکھیں اور پھر انصاف کریں ۔ غور کا مقام ہے کہ ان میں سے اگر کسی آریہ کے ہاں چالیس لڑکیاں بھی ہو جاویں جب بھی ان کے مذہب کی رو سے اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے منہ کالا کرانے کے واسطے بھیجنا پڑے گا تا کہ وہ اپنی نجات کے واسطے لڑکا حاصل کرے کیونکہ ویدوں کی تعلیم کے مطابق جس کے ہاں لڑکا نہیں اس کی مکتی نہیں ۔ اب ذرا انصاف تو کریں کہ مساوات کس جانور کا نام ہے۔ چالیس پچاس لاتعداد لڑکیاں بھی ایک لڑکے کی برابری نہیں کر سکتیں اور لڑکیاں بلحاظ کثرت کے خواہ کتنی بھی ہوں اپنی ماں کو اس قابل نفرت اور خلاف فطرت قبیح فعل سے بچا نہیں سکتیں جب تک لڑکا پیدا نہ ہوا سے نیوگ کرانا ہی پڑے گا ۔ اب بتاؤ کہ کیا تم نے مرد و عورت میں مساوات رکھی ہے؟ اسلام جو کہ بڑا پاک اور بالکل فطرت انسانی کے مطابق واقع ہوا ہے اور بڑی کامل اور حکیمانہ تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے اس نے عورتوں کے نکاح میں جس طرح ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے اسی طرح ان کی طلاق میں بھی ایک ولی کا ہونا ضروری رکھا ہے مثلاً جس طرح عورت اپنے نکاح کے واسطے اپنے ولی کی محتاج ہے اسی طرح طلاق کے واسطے بھی ولی کی محتاج ہے۔ اگر کسی عورت کا کسی خاص شخص سے گزارہ اور نباہ نہیں ہو سکتا تو اس کو اجازت ہے کہ قاضی یا حاکم وقت کی معرفت خلع کرالے۔ وہی قاضی یا حاکم وقت اس کا ولی طلاق ہوگا ۔ کوئی روک ٹوک نہیں ۔ باقی رہا ورثہ کے متعلق سوقرآن شریف نے مرد سے عورت کا حصہ نصف رکھا ہے اس میں بھید یہ ہے کہ نصف اس کو والدین کے ترکہ میں سے مل جاتا ہے اور باقی نصف وہ اپنے سسرال میں سے جالیتی ہے اور پھر اس کے نان و نفقہ ، لباس و پوشاک کا ذمہ دار بھی اس کا خاوند ہوتا ہے۔ اس طرح پر ایک طرح سے عورت مرد سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان معترضوں کو شرم اور حیا سے کام لینا چاہیے۔ پہلے اپنے گریبان میں تو منہ ڈال کر جھانک لیا کریں، پھر زبان اعتراض کھولا کریں ۔