ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 165

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد دہم اور مقابلے کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر دفاعی رنگ میں حفاظت جان و مال کی غرض سے تھے اور کوئی بھی حرکت مسلمانوں کی طرف سے ایسی سرزد نہیں ہوئی جس کا ارتکاب اور ابتدا پہلے کفار کی طرف سے نہ ہوا ہو۔ بلکہ بعض قابل نفریں حرکات کا مقابلہ بتقاضائے وسعت اخلاق آنحضرت نے خود عمداً ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ مثلاً کفار میں ایک سخت قابلِ نفرت رسم تھی جو کہ وہ مسلمان مردوں سے کیا کرتے تھے مگر آنحضرت نے اس قبیح فعل سے مسلمانوں کو قطعاً روک دیا۔ قرآن شریف میں بڑی بسط اور تفصیل سے اس امر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غور کرنے والا اور بے تعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔ قرآن شریف میں صاف طور سے اس امر کا ذکر آگیا ہے کہ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ( التوبة : (۱۳) یعنی ہر ایک شرارت اور فساد کا ابتدا پہلے کفار کی طرف سے ہوا ہے بلکہ قرآن شریف نے تو اس امر کی بڑی وضاحت کر دی ہے کہ جنہوں نے تلوار سے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جو لوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نہیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بے شک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کیا کرو۔ چنانچہ فرماتا ہے لا يَنْهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمُ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة : ٩) اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جبر و تشدد کسی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک کو پوری آزادی دی گئی ہے۔ اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کے لئے اور نہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے۔ نہ کوئی نماز روزے اذان حج اور ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے تو پھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے؟ فرمایا کہ آریہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے ایک یہ بھی عورت اور مرد میں مساوات اسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے مرد اور عورت