ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 164

درجہ کمال کے دوہی حصے ہیں۔ایک تعظیم اوامر الٰہیّہ، دوسرے شفقت علیٰ خلق اللہ۔اَمر اوّل کا تعلق تودل سے اورخدا سے ہوتا ہے جس کو یکایک ہر کوئی نہیں جان سکتا۔دوسراپہلو چونکہ خلقت سے تعلق رکھتا ہے اور اوّل ہی اوّل انسان کی نظر انسانی اخلاق پر پڑتی ہے اس واسطے اس خُلق کا کمال ایک بڑا بھاری اورشاندار معجزہ ہے۔دیکھو! آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے کئی ایک نمونے پائے جاتے ہیں کہ بعض لوگوں نے محض آپؐکے اخلاقی کمال کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مشرک عیسائی مہمان آیا۔صحابہ ؓ ان کو اپنا مہمان بنانا چاہتے تھے مگر آنحضرتؐنے فرمایا کہ نہیں یہ میرا مہمان ہے اس کا کھانا میں لائوں گا۔چنانچہ اس مشرک کو آنحضرتؐنے اپنے ہاں مہما ن رکھا اور اس کی بہت خاطر تواضع کی اور عمدہ عمدہ کھانے اس کو کھلائے اور عمدہ مکان اوراچھا بستر ہ اس کو رات بسر کرنے کے واسطے دیا مگر وہ بوجہ کھانا زیادہ کھا جانے کے بدہضمی کی وجہ سے رات بھراسی کو ٹھڑی میں رفع حاجت کرتا رہا۔مکان اور بسترہ خراب کردیا۔صبح منہ اندھیرے ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کی اوروہ نہ ملا تو بہت ہی افسوس کیا اور کپڑے جو نجاست سے آلودہ ہوگئے تھے خود اپنے دست مبارک سے صاف کررہے تھے کہ وہ اتنے میں واپس آگیا کیونکہ وہ اپنی ایک بیش قیمت صلیب بھول گیا تھا۔اس کو آتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اوراس سے کوئی اظہار رنج نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اس کی مدارات اورخاطر کی اور اس کی صلیب نکال کر اس کو دے دی۔وہ شخص اس واقعہ سے ایسا متأثر ہواکہ وہیں مسلمان ہوگیا۔اس کے سوااور کئی ایسے ایسے واقعات اس قسم کے اعلیٰ درجہ اخلاق کے موجود ہیں۔غرض یہ ہے کہ اخلاقی معجزہ صداقت کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔اسلام کی تمام جنگیں دفاعی تھیں یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اورباوجود باربار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ