ملفوظات (جلد 10) — Page 164
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۴ جلد دہم درجہ کمال کے دو ہی حصے ہیں۔ ایک تعظیم اوامر الہیہ، دوسرے شفقت علی خلق اللہ ۔ امر اول کا تعلق تو دل سے اور خدا سے ہوتا ہے جس کو یکا یک ہر کوئی نہیں جان سکتا ۔ دوسرا پہلو چونکہ خلقت سے تعلق رکھتا ہے اور اول ہی اول انسان کی نظر انسانی اخلاق پر پڑتی ہے اس واسطے اس خُلق کا کمال ایک بڑا بھاری اور شاندار معجزہ ہے۔ دیکھو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسے کئی ایک نمونے پائے جاتے ہیں کہ بعض لوگوں نے محض آپ کے اخلاقی کمال کی وجہ سے اسلام قبول کیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک مشرک عیسائی مہمان آیا ۔ صحابہ ان کو اپنا مہمان بنانا ن بنانا چاہتے تھے مگر آنحضرت نے فرمایا کہ نہیں یہ میرا مہمان ہے اس کا کھانا میں لاؤں گا۔ چنانچہ اس مشرک کو آنحضرت نے اپنے ہاں مہمان رکھا اور اس کی بہت خاطر تواضع کی اور عمدہ عمدہ کھانے اس کو کھلائے اور عمدہ مکان اور اچھا بسترہ اس کو رات بسر کرنے کے واسطے دیا مگر وہ بوجہ کھانا زیادہ کھا جانے کے بد ہضمی کی وجہ سے رات بھر اسی کوٹھڑی میں رفع حاجت کرتا رہا۔ مکان اور بسترہ خراب کر دیا ۔ صبح منہ اندھیرے ہی شرم کے مارے اٹھ کر چلا گیا مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاش کی اور وہ نہ ملا تو بہت ہی افسوس کیا اور کپڑے جو نجاست سے آلودہ ہو گئے تھے خود اپنے دست مبارک سے صاف کر رہے تھے کہ وہ اتنے میں واپس آگیا کیونکہ وہ اپنی ایک بیش قیمت صلیب بھول گیا تھا۔ اس کو آتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور اس سے کوئی اظہار رنج نہیں فرمایا بلکہ آپ نے اس کی مدارات اور خاطر کی اور اس کی صلیب نکال کر اس کو دے دی۔ وہ شخص اس واقعہ سے ایسا متاثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گیا۔ اس کے سوا اور کئی ایسے ایسے واقعات اس قسم کے اعلیٰ درجہ اخلاق کے موجود ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ اخلاقی معجزہ صداقت کی ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔ یہ نہایت درجہ کا ظلم ہے کہ اسلام کو ظالم کہا جاتا ہے حالانکہ اسلام کی تمام جنگی دفاع تھیں ہاہاہا ادا کیا ہے اسلام کو کہا جاتاہے حالانکہ ظالم وہ خود ہیں جو تعصب کی وجہ سے بے سوچے سمجھے اسلام پر بے جا اعتراض کرتے ہیں اور باوجود بار بار سمجھانے کے نہیں سمجھتے کہ اسلام کے کل جنگ