ملفوظات (جلد 10) — Page 163
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۳ جلد دہم حاجی الہی بخش صاحب گجراتی حضرت کے حضور میں حاضر تھے انہوں نے عرض خدا تعالیٰ کا فضل کی کہ مجھے قبل از بیت پدرو سال کی عادت این اور حق ہوئی تھی۔ بیعت ہی ۔ کے بعد میں شرمندہ ہوا کہ اب تک مجھ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تب میں جنگل میں جا کر خدا کے آگے رویا اور میں نے دعا کی اور پھر ایک دفعہ دونوں چیزوں کو چھوڑ دیا نہ مجھے کوئی تکلیف ہوئی اور نہ کوئی بیماری وارد ہوئی ۔ فرمایا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ ( قبل از ظهر ) بہشت دائمی ہے اور دوزخ غیر دائمی فرمایا۔ بہشت کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ عَطَاء غَيْرَ مَجْنُودٍ (هود: ۱۰۹) یہ ایک - ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بہشت کے درمیان بھی مومنوں کو کھٹک رہتا کہ کہیں نکالے نہ جاویں۔ لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں ۔ بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب دوزخ سے نکل چکے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ آخر انسان خدا کی مخلوق ہے۔ خدا تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کر دے گا اور اس کو رفتہ رفتہ او دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا ۔ اے ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء (بوقت سیر ) فرمایا۔ اگر انسان تکبر چھوڑ دے اور اخلاق اور اخلاقی معجزات کی زبردست تاثیر ملنساری سے پیش آوے تو یہ ایک بھاری معجزہ ہوتا ہے۔ اخلاقی معجزہ ہمیشہ اپنے اندر ایک زبردست تاثیر رکھتا ہے۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ سچی تعلیم اور پاک ایمان کا اثر اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ ے بدر جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۲ را پریل ۱۹۰۸ء صفحه ۴