ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 163

خدا تعالیٰ کا فضل حاجی الٰہی بخش صاحب گجراتی حضرت کے حضور میں حاضر تھے انہوں نے عرض کی کہ مجھے قبل از بیعت پندرہ سال کی عادت افیون اور حقہ نوشی کی تھی۔بیعت کے بعد میں شرمند ہ ہواکہ اب تک مجھ میں ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں تب میں جنگل میں جا کر خداکے آگے رویا اور میں نے دعا کی اورپھر یک دفعہ دونوں چیزوں کو چھوڑ دیا نہ مجھے کوئی تکلیف ہوئی اور نہ کوئی بیماری وارد ہوئی۔فرمایا۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔(قبل از ظہر ) بہشت دائمی ہے اوردوزخ غیر دائمی فرمایا۔بہشت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ (ھود:۱۰۹) یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا انقطاع نہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بہشت کے درمیان بھی مومنوں کو کھٹکا رہتا کہ کہیں نکالے نہ جاویں۔لیکن برخلاف اس کے دوزخ کے متعلق ایسا نہیں۔بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ سب دوزخ سے نکل چکے ہوں گے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا بھی یہی ہے۔آخر انسان خدا کی مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ اس کی کمزوریوں کو دور کردے گا اوراس کو رفتہ رفتہ دوزخ کے عذاب سے نجات بخشے گا۔۱ ۲۶؍مارچ ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر ) اخلاقی معجزات کی زبردست تاثیر فرمایا۔اگر انسان تکبّر چھوڑ دے اوراخلاق اور ملنساری سے پیش آوے تویہ ایک بھاری معجزہ ہوتا ہے۔اخلاقی معجزہ ہمیشہ اپنے اندر ایک زبردست تاثیر رکھتا ہے۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔سچی تعلیم اورپاک ایمان کا اثر اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔۱ بدر جلد ۷نمبر ۱۳ مورخہ ۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴