ملفوظات (جلد 10) — Page 159
دوسری قوم کو خود اپنے ارادہ سے اس پر مسلّط کردیتا ہے۔والدہ کا حق ایک دوست نے خط کے ذریعہ اس اَمر کا استفسارکیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اورمجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے میری بیوی سے کوئی رنجش نہیں۔میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایاکہ والدہ کا حق بہت بڑا ہے اوراس کی اطاعت فرض۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہیے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اوربات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اس کاحکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔اوراگر کوئی ایسا مشروع اَمر ممنوع نہیں ہے۔جب تووہ خود واجب طلاق ہے۔اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دکھ دیتی ہیں۔گالیاںدیتی ہیں۔ستاتی ہیں۔بات بات میں اس کو تنگ کرتی ہیں۔والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آباد ی کی والدہ ہوتی ہے اوراس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خر چ کرکے خدا خداکرکے بیٹے کی شادی کرتی ہے توبھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جاطور سے اپنے بیٹے کی بہو سے لڑے جھگڑے اورخانہ بربادی چاہے۔ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھاگیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ایسے بیٹے کی بھی نادانی اورحماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ توناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔جب اس کی والدہ ناراض ہے تووہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ توہے نہیں۔والدہ اوربیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔اگر کوئی وجہ اورباعث اورہے تو فوراً اسے دورکرنا چاہیے۔خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اوریہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تولازم ہے کہ ماں کے ذریعہ سے خرچ کراوے اورکل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔بعض