ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 158

۲۵؍مار چ ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر ) مسلمان ریاستوں کی تباہی کی وجہ جناب خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب اسسٹنٹ سرجن فرخ آباد کے گذشتہ نوابی حالات کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تباہی اوربربادی اوران کے محلات کے کھنڈرات بنائے جانے کے متعلق ذکر کرتے تھے۔اس پر حضرت اقدسؑنے فرمایا کہ پہلے بادشاہوں کے زمانہ میں یہ قاعدہ ہوتاتھا کہ ان کے درباروں میں کوئی نہ کوئی اہل اللہ بھی موجود ہواکرتے تھے جن کے صلاح مشوروںسے بادشا ہ کام کیا کرتے تھے اوران کی دعائوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے مگر اب وہ حال نہیں رہا بلکہ ان مسلمانوں کا بھی بنی اسرائیل والا حال ہوگیا۔ان کو بھی خدا نے بوجہ ان کی بدکاریوں کے چھوڑدیا تھا اورکوئی نصرت ان کی نہیں ہوتی تھی۔وہی حال اب بھی ہورہا ہے۔اسلام کی نصرت اورمدد کا خدا نے خود وعدہ کیا ہے مگر کوئی مسلمان بھی ہو۔مسلمان توخود ہی موردِ قہر وعذا بِ الٰہی ہورہے ہیں ان کی نصرت کیسے ہو؟ یہ چند ہندوستانی مسلمانوں کی ریاستیں جو خدا کے قہر کا نشانہ بنیں۔اگر یہ کچھ بھی نیک طینت ہوتے تو خدا ضروران کو محفوظ رکھتا اوران کی نصرت کرتا۔یہ عذاب اورتنزل جو ان کو نصیب ہوایہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا باعث تھا۔دیکھو! بنی اسرائیل کو خود حضرت موسٰی کے ہوتے ہوئے شکست ہوئی تھی اس میں بھی یہی وجہ تھی کہ ان کی حالت خود جاذب نصرت نہیں تھی بلکہ حضرت موسٰی نے ان کو کہہ دیا تھا اس وقت مقابلہ مت کرو۔موقع مناسب نہیں اورنہ ہی وہ وقت آیا ہے کہ تمہاری نصرت ہو۔صلاح الدین ایوبی صلاح الدین ایک نیک بخت شخص تھا۔نمازوں کا بھی پابند تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے بھی اس کی تائید کی اورسخت سے سخت مشکلات اور مخالفوں کے حملوں میں اس کو فتح نصیب کی۔اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم بگڑ جاتی ہے اورخدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف جھک جاتی ہے اوربدکاریوں اور فسق وفجور میں غرق ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایک