ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 157

اس طرح کا موعودہ کسوف خسوف ظہور میں آوے کوئی مدعی مہدویت اور مسیحیت موجود تھا جس نے اپنے دعویٰ کو عام کتب کے ذریعہ سے شائع بھی کیا ہواور اس کا دعویٰ دنیا میںشہرت یافتہ ہو اور پھر اس کے ساتھ کوئی آسمانی یا زمینی نشان اور تائیدات بھی موجود ہو ں یا قرآن وحدیث سے مبرہن کیا گیا ہو۔ہمارا مطالبہ توان شرائط اور لوازم کے ساتھ کسوف خسوف ثابت کرنے کا ہے۔دیکھو! اس واقعہ کا بیان تو انگریزی اخبارات مثل سول ملٹری اورپایونیر وغیرہ نے بھی کردیا تھا کہ اس ہیئت کذائی سے اس سے پہلے کبھی کوئی ایسا واقعہ ظہو ر میں نہیں آیا۔اس سے بڑھ کر دجل اور بے ایمانی اور کیا ہوگی کہ سب لوازم کو ترک کرکے صر ف ایک بات کو ہاتھ میں لے کر اعتراض کر دینا؟ دکھانا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسا نشان ظاہر ہونے سے پہلے کہ وہ مقررہ تاریخوں میں ظاہر ہوا ہو، کوئی مدعی بھی موجود ہو۔پھر اس نے دعویٰ بھی کیا ہو۔اس دعویٰ کی اشاعت بھی کی ہو اور اس کو آیات ونشانات ارضی وسماوی اوردلائل قاطعہ سے مبرہن بھی کیا ہو۔یونہی زبانِ اعتراض ہلا دینے سے کیا ہوتا ہے؟ اس طرح سے توتمام نبوت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر عبدالحکیم کے عقاید مولوی عبداللہ خاں صاحب پٹیالوی نے عرض کیا کہ حضور تمام جماعت پٹیالہ نے بڑا شکر کیا تھا۔جس دن یہ شخص جماعت میں سے خارج کیا گیا تھا۔وہ بار ہا مجھ سے یوں مخاطب ہواکرتا تھا کہ مولوی صاحب جب کونین میں ذاتی خاصیت شفا کی موجود ہے توکیا ضرورت ہے کہ عبدالحکیم کو ڈاکٹر ماننے ہی سے کونین شفادے؟ اس طرح سے جب توحید الٰہی پر ایمان لانے کا نتیجہ نجات ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ہم محمد ؐ کو نبی مانیں؟ بلکہ جس طرح سے کونین بغیر اس کے بھی کہ کسی زید و بکر کوڈاکٹر تسلیم کیا جاوے نفع پہنچاتی ہے اسی طرح توحید بھی اپنے نفع پہنچانے اورنجات دلانے کے لئے کسی کے رسول اور نبی ماننے کی محتا ج نہیں۔فرمایا۔ہم نے یہی مناسب سمجھا کہ بجائے اس کے کہ نعوذ باللہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر اعتراض سنیں اورایمان لانے کی ضرورت نہ سمجھنے کا سوال سنیں کیوں عبدالحکیم ہی کو جماعت سے خارج نہ کردیں۔۱ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۳