ملفوظات (جلد 10) — Page 156
۲۴؍مارچ ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) پیشگوئی میں مذکور سورج اورچاندگرہن کی شرائط حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب جو کہ کسی کارِ ضروری کے واسطے حضرت اقدسؑ کی اجازت سے امروہہ تشریف لے گئے ہوئے تھے۔بخیر و عافیت واپس تشریف لے آئے ہیں۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی حضور کانے دجّال۱ نے بڑادجل کر رکھا ہے اوربعض جاہل اوربے علم لوگ اس کے اس دھوکے میں آئے ہوئے ہیں کہ اس نے اپنی کتاب میں پچیس یا چھبیس دفعہ چاند اور سورج گرہن رمضان میں ہونے کاثبوت دیا ہے اس پر فرمایا کہ ہم نے اس بات سے کبھی انکار نہیں کیا کہ پہلے بھی رمضان میں کبھی کسوف خسوف ہواہوبلکہ ہم تونظامِ شمسی کے قائل ہیں اور ایمان رکھتے ہیںکہ ممکن ہے کہ کبھی پہلے بھی ایسا واقعہ ہوگیا ہو۔ہمارادعویٰ توصرف یہ ہے کہ جن شرائط اورلوازم کا ذکر حدیث دارقطنی میں درج ہے ایسا آج سے پہلے کبھی واقع نہیں ہوا۔مثلاً اس حدیث میں صاف تاریخ مقرر کی گئی ہے کہ چاند گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے اوّل تاریخ میں اور سورج گرہن اپنے گرہن کی مقررہ تاریخوں میں سے ان کے نصف میں یعنی تیرھویں چاند اوراٹھائیسویں کو سورج گرہن ہوگا اور اس وقت پہلے سے ایک مدعی مہدویت کا دعویٰ موجود ہوگا نہ کہ سورج گرہن اورچاند گرہن کو دیکھ کر دعویٰ کرے گا بلکہ وہ پیشتر ہی سے دعویٰ موجود ہوگا اور اس کی تائید اورنصرت کے واسطے آسمان پر اس طرح سے چاند اورسورج گرہن ہوگا اور علاوہ ازیں اور اورنشانات زمینی وآسمانی اوردلائل وبراہین سے اپنے دعویٰ کو مبرہن کرتا ہوگا اور اس کا دعویٰ خوب طرح سے شہرت پاکر دوردور اطراف میں مشہور ہوگیا ہوگا۔پس کیا عبدالحکیم نے ایسا بھی ثبوت دیا ہے کہ وہ پہلے گرہن جو رمضان میں واقع ہوئے تھے ان میں سے کوئی ان شرائط ولوازم اورقید تاریخ سے بھی واقع ہواتھا ؟اور کیا اس وقت پہلے اس کے کہ وہ ۱ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد کی طرف اشارہ ہے (مرتّب )