ملفوظات (جلد 10) — Page 155
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۵ جلد دہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت کا وارث بنایا اور آنحضرت کے منہ سے نکلی ہوئی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنے والے اور پورا کرنے والے بنایا۔ انہی کے ہاتھ سے بڑے بڑے قرآنی وعدے پورے کئے ۔ قیصر و کسری کے تخت اور خزانے انہی کے ذریعہ اسلام کا ورثہ بنائے ۔ سو ان کو غدار ، ظالم، منافق اور غاصب کا لقب دے کر چھوڑ دیا۔ ان کا تو وہ حال ہے کہ جس طرح ایک عورت کو جب اس کے دن حمل کے پورے ہو چکتے ہیں تو دردزہ شروع ہوتی ہے جس کی تکلیف سے وہ اور اس کے عزیز و اقارب اور خویش روتے ہیں اور دردمند ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک نازک حالت ہوتی ہے۔ نتیجہ کی کسی کو خبر نہیں ہوتی ۔ مگر جب اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جاوے اور وہ چلہ پورا کر کے غسل صحت بھی کرلے اور بچہ بھی اس کا صحیح سالم جیتا جاگتا ہو اس وقت لگے کوئی آدمی رو نے تو اس کا رونا کیسا بے محل اور بے موقع ہوگا۔ سو یہی حال ہے ان کا وقت گذر چکا ۔ صحابہ کرام کا میابی کے ساتھ تخت خلافت کو مقررہ وقت تک زیب دے کر اپنی اپنی خدمات بجالا کر بڑی کامیابی اور اللہ کی رضوان لے کر چل بسے اور جنات و عیون جو آخرت میں ان کے واسطے مقرر تھے اور وعدے تھے وہ اُن کو عطا ہو گئے ۔ اب یہ روتے ہیں اور چلاتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ ایسے تھے اور ایسے تھے ۔ محرم میں شہیدان کربلا کی مصیبت کو یاد کر کر کے رونے سے کیا حاصل ؟ اپنے نفس کا غم کرنا چاہیے اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ سب سے بڑا فکر انسان کو جو کرنا چاہیے وہ یہی ہے کہ اپنے نفس کی اصلاح کرلے اور آخرت کے واسطے زاد راہ لے لے ۔ دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کیا کہا تھا ؟ اے فاطمہ ! اپنی جان کو آگ سے بچانے کی فکر کرلے میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر اور کسی کا کیا حال؟ " الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۱ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۲، ۳