ملفوظات (جلد 10) — Page 147
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۷ جلد دہم یعنی ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے روزی دیتا ہے ۔ حضرت داؤد کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور بوڑھا ہو گیا ہوں مگر آج تک میں نے کسی صالح کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔ اسی طرح توریت میں ہے کہ نیک بخت انسان کا اثر اس کی سات پشت تک جاتا ہے پھر قرآن مجید میں بھی ہے کہ كَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا (الكهف : (۸۳) یعنی ان کا باپ صالح تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کا خزانہ محفوظ رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کچھ ایسے نیک نہ تھے۔ باپ کی نیکی کی وجہ سے بچائے گئے ۔ پس انسان کے لیے متقی اور نیک بننا کیمیا گر سے بہت بہتر ہے۔ اس کیمیا گری میں تو روپیہ ضائع ہوتا ہے مگر اس کیمیا گری میں دین بھی اور دنیا بھی دونوں سدھر جاتے ہیں ۔ افسوس ہے ان لوگوں پر جو ساری عمر یونہی فضول ضائع کر دیتے ہیں اور کیمیا کی تلاش میں ہی مر جاتے ہیں حالانکہ اس کو چہ میں سوائے میں سوائے نقصان مال اور نقصان ایمان اور کچھ نہیں اور ایسا شخص یکے نقصان ما یہ و دیگر شماتت ہمسایہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اصل کیمیا تقویٰ ہے جس نے اس کو حاصل کر لیا اس نے سب کچھ حاصل کر لیا اور جس نے اس نسخہ کو نہ آزمایا اُس نے اپنی عمر ضائع کی ۔ اگر کیمیا واقعی ہو بھی تو بھی اس کے پیچھے عمر کھونے والا کبھی متقی اور پر ہیز گار نہیں ہو سکتا ۔ جس کو رات دن دنیا کی محبت لگی رہے گی وہ اپنے پاک اور پیارے خدا کی محبت کو اپنے دل میں کس طرح جگہ دے گا۔ کفارہ کی نسبت فرمایا کہ عقیدہ کفارہ عیسائی کفارہ پر اس قدر زور دیتے ہیں حالانکہ یہ بالکل لغو بات ہے۔ ان کے اعتقاد کے موافق مسیح کی انسا نیت قربان ہو گئی مگر صفت خدائی زندہ رہی ۔ اب اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ جو دنیا کے لیے فدا ہوا وہ تو ایک انسان تھا خدا نہ تھا حالانکہ کفارہ کے لیے بموجب انہی کے اعتقاد کے خدا کو قربان ہونا ضروری تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک انسانی جسم فدا ہوا اور خدا زندہ رہا۔ اور اگر خدا فدا ہوا تو اس پر موت آئی ۔ اصل میں اس کفارہ کی وجہ سے ہی دنیا میں گناہوں کی کثرت ہو رہی ہے مگر جب عیسائیوں کو کہا