ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 146

اسی طرح قادیان کے پاس ایک گاؤں ہے۔وہاں ایک کیمیا گر آیا اور مسجد میں ٹھہرا۔مسجد والے سے پوچھا کہ یہ مسجد ٹوٹی پھوٹی ہے اس کو بناتے کیوں نہیں ؟ اس نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں یہ مسجد بنی تھی اب ہم غریب ہیں اس قدر روپیہ نہیں۔اس نے کہا کہ نہیں روپیہ کا کیا ہے؟ بندوبست ہو جائے گا اور پوچھے جانے پر جواب دیا کہ میں چاندی بنا سکتا ہوں۔چنانچہ ا س شخص نے پچیس روپے دئیے اور وہ کیمیا گر اس کو لے کر بٹالہ آیا اور وہاں پہنچ کر اس کو صاف کی ہوئی قلعی دےدی وہ شخص بیچارہ سادہ لوح تھا فرق نہ کر سکا اور اپنے گاؤں میں آکر سنار کو دکھلائی تو معلوم ہوا کہ بالکل بے قیمت ہے۔اسی طرح ایک ڈپٹی صاحب تھے جن کو مدت سے کیمیا کا شوق تھا اور اس میں بہت روپیہ ضائع کر چکے تھے۔ایک دن ایک آدمی اُن کے پاس آیا اور کہا کہ میں کیمیا بنانی جانتا ہوں مگر سامان وغیرہ کے لئے پانچ سو روپیہ درکار ہے۔وہ ڈپٹی صاحب نے فوراً دلوا دیا۔روپیہ لے کر وہ شخص ایک پاس کی دکان میں بیٹھ گیا اور ڈپٹی صاحب کو کہلا بھیجا کہ روپیہ تو میں لے چکا۔اب جو مرضی ہو کرو۔میں نہیں دیتا۔لینا ہے تو عدالت میں نالش کرو۔ڈپٹی صاحب اب ایسے بوڑھاپے میں نالش کس طرح کرتے اور کرتےتو اپنی بے عزتی ہوتی۔چپ ہو رہے غرض یہ سب بیہودہ ہے۔کیمیا کی مرض پہلے زمانہ میں تو عام طور پر تھی اور ہنود اس میں مدت سے پھنسے ہوئے تھے مگر افسوس بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی اب تک اس کے دلدادہ ہیں۔اسلام اس کو بالکل ناجائز قرار دیتا ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رزق کریم متقی کو ضرور ملتا ہے اور وہ رزق جس سے فائدہ پہنچے کریم ہی ہوتا ہے۔ورنہ بہت سے ایسے مال ہوتے ہیں جو ناجائز طریقوں سے کمائے جاتے ہیں اور ناجائز باتوں میں اور فضول رسومات میں اُٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ محنت اور نیکی سے کمایا ہوا روپیہ اپنے اصل موقع پر خرچ ہو تا ہے جیسا کہ ان دو بھائیوں کے قصہ سے ظاہر ہے کہ خد ا تعالیٰ نے اَبُوْهُمَا صَالِحًا (الکھف:۸۳) کی وجہ سے دونبیوں کو اس بات پر مامور کیا کہ اس روپیہ کی حفاظت کے لئے جو کہ نیکی اور تقویٰ سے کمایا ہوا تھا ایک دیوار بنائیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَفِي السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ (الذّٰریٰت:۲۳،۲۴)