ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 145

کیمیا گری اور رزقِ کریم فرمایا کہ بہت سے لوگ کیمیا کی فکر میں لگے رہتے ہیںاور عمر کو ضا ئع کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدرغربت سے گذارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لئے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو پکی تھی اور باقی اندر سے کچا تھا۔ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہراً نہایت نیک معلوم ہوتا تھا۔بوجہ اس کے ظاہری درود وظائف کے وہ سادہ لوح آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا اور تعلق رکھتا تھا۔کچھ مدت کے بعد اس فقیر نے بڑی سنجیدگی سے اُس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے؟ اس نے جواب دیا کہ روپیہ نہیں غریب ہوں۔اس پر فقیر نے کہا روپیہ کی کیا بات ہے؟ اور اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔اس ذومعنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے اس سے پوچھا کہ کیا تم کچھ کیمیا جانتے ہو۔اس نے کہا کہ ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے پر میں کسی کو بتاتا نہیں۔چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لئے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اکٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جا کر وظیفہ پڑھتا رہا۔ایک زیور لے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دئیے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہہ گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اُپلوں میں رکھ کر آگ دو۔مگر دیکھنا کچا نہ اُتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہاتھ نہ لگانا۔اس نے اس کے کہنے مطابق اس ہنڈیا کو خو ب آگ دی اوراس قدر دھواں ہوا کہ ہمسائے اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اُس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے۔چنانچہ وہ شخص جب کسی کام کے لیے گورداسپور گیا تو اُسے وہاں معلوم ہو ا کہ وہی شخص کسی اور کو دھوکہ دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے۔پس اس نے ان کو بھی سمجھا دیا کہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے اور وہاں بھی ہنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی نکلے۔