ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 144

۱۷؍مارچ ۱۹۰۸ء حضرت علی ؓ خلفاء ثلاثہ کو اپنا مقتدا تسلیم کر تے تھے فرمایا۔شیعہ کہتے ہیں قرآن مجید میں کچھ کمی بیشی ہے۔اس اعتراض کی زد میں سب سے پہلے وہی آتے ہیں۔حضرت علیؓاسی لیے خلیفہ نہیں ہوئے تھے کہ معاویہ کے ساتھ جنگ کریں بلکہ ان کا فرض تھا کہ قرآن شریف کی حفاظت کریں جو اصل الاصول دین ہے۔پس وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اصل قرآن کو شائع کر جاتے۔کیا جس قرآن مجید کی اشاعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہزاروں مخالف وموافق لوگوں میں ہوتی رہی ہو اس میں کچھ تغیر ممکن تھا؟ یہ کیسی لغو بات ہے! پھر ہم پوچھتے ہیں کہ انہی خلفاء کے پیچھے حضرت علیؓ نمازیں پڑھتے رہے اگر ان کے غاصب ظالم ہونے کا یقین تھا تو ایسا کیوں کیا؟ دیکھو ہمارے مرید ہیں وہ دوسروں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں گے تو کیا حضرت علی ؓ ان سے بھی ایمانی حالت میں کمزور تھے جو تقیہ کرتے رہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ایسی بات ہو تو ہجرت کر جاؤ۔آپ نے یہ بھی نہ کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ خلفائے ثلاثہ کو اپنا مقتدا تسلیم کرتے تھے۔امرا ء اہلُ اللہ کے محتاج ہوتے ہیں فرمایا۔شَـــرُّ الْــفُــقَـــرَائِ مَــنْ ھُــــوَ عَـــــلٰی بَـــابِ الْاُمَرَائِ۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے بہتری پاتے ہیں۔پس انہیں امراء کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں! امراء ان کے بہت کچھ محتاج ہیں۔اللہ تعالیٰ کا احسان فرمایا۔لوگ دین حق اختیار کر کے داعی اِلَی اللہ پر احسان رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کہا یہ تو میرا احسان ہے کہ تمہیں ہلاکت سے بچا لیا۔تم بجائے احسان نمائی کے نبی کا شکر یہ ادا کرو۔