ملفوظات (جلد 10) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد دہم ۱۷ مارچ ۱۹۰۸ء اء حضرت علی خلفاء ثلاثہ کو اپنا مقتدا تسلیم کرتے تھے۔ فرمایا۔ شیعہ کرتے ہیں قرآن مجید میں کچھ کمی بیشی ہے۔ اس اعتراض کی زد میں سب سے پہلے وہی آتے ہیں۔ حضرت علیؓ اسی لیے خلیفہ نہیں ہوئے تھے کہ معاویہ کے ساتھ جنگ کریں بلکہ ان کا فرض تھا کہ قرآن شریف کی حفاظت کریں جو اصل الاصول دین ہے۔ پس وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اصل قرآن کو شائع کر جاتے ۔ کیا جس قرآن مجید کی اشاعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہزاروں مخالف وموافق لوگوں میں ہوتی رہی ہو اس میں کچھ تغیر ممکن تھا؟ یہ کیسی لغو بات ہے ! پھر ہم پوچھتے ہیں کہ انہی خلفاء کے پیچھے حضرت علی نمازیں پڑھتے رہے اگر ان کے غاصب ظالم ہونے کا یقین تھا تو ایسا کیوں کیا ؟ دیکھو ہمارے مرید ہیں وہ دوسروں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں گے تو کیا حضرت علی ان سے بھی ایمانی حالت میں کمزور تھے جو تقیہ کرتے رہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایسی بات ہو تو ہجرت کر جاؤ ۔ آپ نے یہ بھی نہ کیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ خلفائے ثلاثہ کو اپنا مقتد اتسلیم کرتے تھے۔ فرمایا - شَرُّ الْفُقَرَاء مَنْ هُوَ عَلَى بَابِ امراء اہل اللہ کے محتاج ہوتے ہیں الامراء بیلوگ اللہ تعالی سے بہتری پاتے ہیں ۔ یہ پس انہیں امراء کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں! امراء ان کے بہت کچھ محتاج ہیں۔ فرمایا۔ لوگ دین حق اختیار کر کے داعی الی اللہ پر احسان رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اللہ تعالی نے کہا یہ تو میرا احسان ہے کہ تم میں ہلاکت سے بچا لیا۔ تم بجائے احسان نمائی کے نبی کا شکریہ ادا کرو۔