ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 132

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۲ جلد دہم اپنے آپ تک ہی محدود رکھا ہو بلکہ اس فتویٰ میں قریباً تمام ہندوستان کے بڑے بڑے مولویوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے واسطے سرتوڑ کوشش کرتا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمیں ایک شرعی معاملہ میں منصف بنانا چاہتا ہے ۔ اس کے نزدیک جب ہم دائرہ اسلام سے ہی خارج ہیں تو پھر ایک شرعی معاملہ میں ہمارا دخل کیا اور فیصلہ کیسا ؟ اس سے کہو کہ پہلے تم ہمارے کفر و اسلام کا تو فیصلہ کر لو پھر ہمیں منصف بھی بنا لینا۔ شخص نے تو جہاں تک اس سے ممکن ہو سکا ہے اور اس کا بس چلا ہے ہمیں پھانسی دلانے کی کوششوں میں بھی کمی نہیں کی مگر یہ اللہ کا فضل اور اس کی خاص نصرت تھی کہ اُس نے ہمیں ہر میدان میں عزت دی اور اعدا اور ہماری ذلت چاہنے والوں کو ذلیل کیا۔ دیکھولیکھرام کے قتل کے وقت بھی اس نے کس طرح آریوں کو اُکسایا۔ ہماری تلاشی ہوئی اور پھر خون کے مقدمہ میں ایک عیسائی کی طرف سے گواہ بن کر ہمارے برخلاف اقدام قتل کے ثبوت کے واسطے کوششیں کیں ۔ گورنمنٹ کو ہم سے بدظن کرنے میں اس نے کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ۔ ہمیں باغی بنایا اور صاف کہا کہ گورنمنٹ کیوں ایسے باغی کو نہیں پکڑتی ؟ عام لوگوں کو ہم سے بدظن کرنے میں اپنے ناخنوں تک زور لگایا۔ ں سے کہہ دیا کہ ان سے سلام مت کرو۔ مصافحہ مت کرو۔ ان کی چوری کرنا ، ان کو قتل کر دینا اور لوگوں ان کی عورتیں چھین لینا جائز ہے۔ پھر جب اس کے ہم پر ایسے ایسے احسانات ہیں تو اب یہ نامہ و پیام کیسے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں جس کے واسطے یہ اتنے زور دیتا ہے کہ اس کی کوئی ذاتی اور نفسانی غرض ہے اگر کچھ بھی سعادت کا حصہ اس میں ہوتا تو اسی معاملہ میں غور کرتا کہ جس دن سے اس نے ہماری مخالفت کا بیڑا اٹھایا ہے اور ہمارے نیست و نابود کرنے میں جان توڑ کوششیں کی ہیں ۔ اسی دن سے اندازہ تو لگائے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے کیسے فیضان نازل ہوئے اور ہمیں کس طرح خدا نے بڑھا یا اور اس کا اپنا کیا حال ہوا ؟ ایک سعید انسان اور سلیم الفطرت آدمی کے ہدایت پا جانے کے واسطے صرف یہی بات کافی تھی ۔