ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 130

ہونے کی وجہ سے اعتراض کئے جاتے ہیں۔حالانکہ موجودہ زمانہ پکار اُٹھا ہے اور زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ واقعی تعدّد ازدواج کی ضرورت ہے آریوں نے بھی اس ضرورت کو محسوس کیا ہے۔غرض ضرورت کا احساس تو سب نے کر لیا ہے باقی رہی یہ بات کہ اس ضرورت کو ہم نے کس رنگ میں پورا کیا اور آریوں نے اس کے پورا کرنے کی کیا راہ سوچی۔سو وہ تعدّد ازدواج اور نیوگ ہے۔اب ان دونوں باتوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کونسی راہ اچھی ہے؟۱ لائف انشورنس (قبل از نماز ظہر ۲) ایک دوست کا خط حضرت اقدسؑ کی خدمت میں پیش ہوا جس میں لکھا تھا۔بحضور جناب مسیح موعود مہدی مسعود علیہ السلام مارچ ۱۹۰۰ء میں مَیں نے اپنی زندگی کا بیمہ واسطے دو ہزار روپے کے کرایا تھا شرائط یہ تھیں کہ اس تاریخ سے تامرگ میں  سالانہ بطور چندہ کے ادا کرتا رہوں گا۔تب دو ہزار روپیہ بعد مرگ میرے وارثان کو ملے گا اور زندگی میں یہ روپیہ لینے کا حقدار نہ ہوں گا۔اب تک میں نے تقریباً مبلغ چھ سو روپیہ کے بیمہ کرنے والی کمپنی کو دے دیا ہے۔اب اگر میں اس بیمہ کو توڑ دوں تو بموجب شرائط اس کمپنی کے صرف تیسرے حصہ کا حقدار ہوں۔یعنی دو صد روپیہ ملے گا اور باقی چار صد روپیہ ضائع جائے گا۔مگر چونکہ میں نے آپ کے ہاتھ پر اس شرط کی بیعت کی ہوئی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اس واسطے بعد اس مسئلہ کے معلوم ہو جانے کے میں اس حرکت کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا جو خدا اور اس کے رسول کے احکام کے برخلاف ہو اور آپ حَکم اور عدل ہیں۔اس واسطے نہایت عجز سے ملتجی ہوں کہ جیسا مناسب حکم ہو صادر فرمایا جاوے تا کہ اس کی تعمیل کی جاوے۔۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۷،۸ ۲الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ۹ کالم اوّل سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ ڈائری ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء قبل از نماز ظہر کی ہے۔(مرتّب)