ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 120 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 120

دل میں نہیں اتارتے۔چاہو جتنی نصیحت کرو مگر ان کو اثر نہیں ہوتا۔یاد رکھو کہ خدا بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پروا نہیں کرتا۔دیکھو! کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو۔یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے جیسا کہ فرمایا اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ يَكْشِفُ السُّوْٓءَ(النّمل:۶۳) اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بناؤ ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہیے اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر بُرا نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔بُرے نمونے سے اَوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں اگرچہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (النّحل:۱۲۹) خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہیے اور اس میں غور کرنا چاہیے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحا ظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضا ئع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خا طر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔ایک شخص جو اولیاء اللہ میں سے تھے ان کا ذکر ہے کہ وہ جہاز میں سوار تھے۔سمندر میں طوفان