ملفوظات (جلد 10) — Page 119
نصرت نہیں کرتا جب تک وہ خود نہیں دیکھتا کہ اس کا ارادہ میرے ارادے اور اس کی مرضی میری رضا میں فنا نہیں ہے۔میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا۔اب اگرچہ چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے مگر حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی۔بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو۔سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صا ف ہو جاوے۔نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجہ سے نکل کر خدا کی رضا میں محو ہو جاویں۔حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔دین کے واسطے اور اشاعتِ دین کے لیے ان میں ایک تڑ پ پیدا ہو جاوے اپنی خواہشات اور ارادوں، آرزؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہو پر جسے میں ہدایت دوں تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو میں نور بخشوں۔تم سب مُردے ہو مگر وہی زندہ ہے جس کو میں روحانی زندگی کا شربت پلاؤں۔انسان کو خدا تعالیٰ کی ستّاری ڈھانکے رکھتی ہے ورنہ اگر لوگوں کے اندرونی حالات اور باطن دنیا کے سامنے کر دئیے جاویں تو قریب ہے کہ بعض کے بعض قریب تک بھی جانا پسند نہ کریں۔خدا بڑا ستّار ہے۔انسانوں کے عیوب پر ہر ایک کو اطلاع نہیں دیتا۔پس انسان کو چاہیے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہروقت دعا میں لگا رہے۔یقیناً جانو کہ جماعت کے لوگوں میں اور ان کے غیر میں اگر کوئی مابہ الامتیاز ہی نہیں ہے تو پھر خدا کوئی کسی کا رشتہ دار تو نہیں ہے۔کیا وجہ ہے کہ اِن کو عزت دے اور ہر طرح حفاظت میں رکھے۔اور اُن کو ذلّت دے اور عذا ب میں گرفتار کرے۔اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ( المآئدۃ : ۲۸ ) متقی وہی ہیں کہ خدا سے ڈر کر ایسی باتوں کو ترک کر دیتے ہیں جو منشاء الٰہی کے خلاف ہیں۔نفس اور خواہشاتِ نفسانی کو اور دنیا و مافیہا کو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ہیچ سمجھیں۔ایمان کا پتہ مقابلے کے وقت لگتا ہے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف نکال دیتے ہیں ان باتوں کو