ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 118

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۸ جلد دہم کچھ نہیں بنا سکتی ۔ قرآن شریف میں آیا ہے کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ - كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف : ۳، ۴) یہ وقت ہے کہ سابقوں میں داخل ہو جاؤ یعنی ہر نیکی کے کرنے میں سبقت لے جاؤ اعمال ہی کام آتے ہیں زبانی لاف و گزاف کسی کام کی نہیں ۔ دیکھو! حضرت فاطمہ کو آنحضرت نے کہا کہ فاطمہ اپنی جان کا خود فکر کرلے میں تیرے کسی کام نہیں آ سکتا۔ بھلا خدا کا کسی سے رشتہ تو نہیں ۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے بلکہ اعمال کی پرسش ہوگی ۔ انسان میں کئی قسم کے گناہ کسل ، کبر، سستیاں اور بار یک در بار یک گناہ ہوتے ہیں ان سب سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں نفس انسان کے تین مرتبے بیان فرمائے ہیں۔ اتارہ ، لوامہ، مطمئنه نفس اتارہ تو ہر وقت انسان کو گناہ اور نافرمانی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور بہت خطرناک ہے۔ تو امہ وہ ہے کہ کبھی کوئی بدی ہو جاوے تو ملامت کرتا ہے۔ مگر یہ بھی قابل اطمینان نہیں ہے۔ قابلِ اطمینان صرف نفس کی وہ حالت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفسِ مطمئنہ کے نام سے پکارا ہے اور وہی اچھا ہے وہ اس حالت کا نام ہے کہ جب انسان خدا کے ساتھ ٹھہر جاتا ہے اسی حالت میں آکر انسان گناہ کی آلائش سے پاک کیا جاتا ہے۔ یہی ایک گناہ سوز حالت ہے اور اسی درجہ کے انسانوں کے ساتھ برکات کے وعدے ہوئے ہیں۔ ملائکہ کا نزول ان پر ہوتا ہے اور حقیقی نیکی اور پا کی صرف انہیں کا حصہ ہوتی ہے۔ صرف زبان کا اقرار تو خدا کے نزدیک کچھ چیز ہی نہیں ۔ ہم نے اکثر ہندو دیکھے ہیں کہ خیانت کرتے ہیں، کم تو لتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، دنیا کی محبت میں مرے جاتے ہیں مگر زبان سے دوسری طرف یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ اجی صاحب دنیا فانی ہے۔ نا پائیدار ہے۔ پس تم ایسے ہو جاؤ کہ خدا کے ارادے تمہارے ارادے ہو جاویں میری حقیقی جماعت بنو اس کی رضا میں رضا ہو۔ اپنا کچھ بھی نہ ہوسب کچھ اس کا ہو جاوے صفائی کے یہی معنے ہیں کہ دل سے خدا کی عملی اور اعتقادی مخالفت اُٹھا دی جاوے۔ خدا کسی کی