ملفوظات (جلد 10) — Page 117
بات ہے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت وہ اگر سانپ بن گیا تھا تو دوسرے وقت میں وہی سوٹے کا سوٹا تھا نہ یہ کہ وہ کہیں سانپوں کے گروہ میں چلا گیا تھا۔پس اسی طرح حضرت عیسٰیؑ کے وہ طیور بھی آخر مٹی کے مٹی ہی تھے بلکہ حضر ت موسیٰ کا سوٹا تو چونکہ مقابلہ میں آگیا تھا اور وہ مقابلہ میں غالب ثابت ہوا تھا اس واسطے حضرت عیسٰیؑ کے طیور سے بہت بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ طیور تو نہ کسی مقابلے میں آئے اور نہ اُن کا غلبہ ثابت ہوا۔غرض ایک حصہ تو ہمارے دعاوی کا حضرت عیسٰیؑ کی وفات کے ثابت کرنے کے متعلق ہے جس کو ہم نے ہرطرح سے عقل سے، نقل، اقوالِ ائمہ سے غرض ہر پہلو سے بیسیوں کتابیں تالیف کرکے ثابت کر دیا ہے۔مسیح کی آمد ثانی دوسرا حصّہ آمد ثانی کے متعلق ہے۔سو وہ اللہ تعالیٰ نے خود آسمانی نشانات اور تائیداتِ سماوی کے ذریعہ سے اور آئے دن ہماری ترقی، دشمنوں کا تنزل کرکے ظاہر کر دیا ہے۔ایک طوفان اور دریا کی لہریں تا ئید اور نصرت کی خدا کی طرف سے آرہی ہیں۔ا ن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔تا زہ نشانات اور قبل از وقت زبردست کثیر پیشگوئیاں دلوں پر اثر ڈالتی ہیںاور انہیں سے ترقی ہوئی۔ان مُلّانوں کے پرانے رطب ویابس جو ان کے پاس قصے کہانیوں کے رنگ میں ہیں ان سے کیا ترقی ہو سکتی ہے بلکہ تنزل کے اسباب ہیں۔تعجب ہے کہ یہ لوگ منبروں پر چڑھ کر رویا کرتے تھے کہ یہ تیرھویں صدی سخت منحوس ہے۔چودہویں صدی انعامات وبرکات کا موجب ہوگی اور امام مہدی اور مسیح موعود اس صدی میں آوے گا۔صدیق حسن خاں نے کئی اولیا ء اللہ کی روایات سے اپنی کتاب میں ثابت کیا ہے کہ سب کا اتفاق تھا کہ مسیح آنے والا چودھویں صدی میں آوے گا۔مگر خدا جانے اب لوگوں کو کیا ہوگیا؟ زبانی بیعت کی کچھ بھی حقیقت نہیں خیرا صل بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی صفائی کرنی چاہیے۔صرف زبان سے کہہ دینا کہ میں نے بیعت کر لی ہے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتا جب تک عملی طور سے کچھ کر کے نہ دکھلایا جاوے۔صرف زبان