ملفوظات (جلد 10) — Page 115
لکھا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ(المآئدۃ : ۱۱۸ ) یہ عجیب نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بیان کو قیامت کے دن کے لئے خا ص کر دیا ہے۔اس سے تو صاف ثابت ہے کہ حضرت عیٰسیؑ وفات پاچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہ کیا ایسے مشرکانہ خیالات اور عقائد تم نے ان لوگوں کو بتائے ہیں؟ حضرت مسیحؑ صاف انکار کرتے ہیں اور کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیںکہ یا الٰہی! میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی۔یہ مشرکانہ تعلیم میری وفات کے بعد انہوں نے اختیار کی ہے۔میں اس کا ذمہ وار نہیں ہوں۔چاہے ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو بخش تیرے بندے ہیں۔اب صاف بات ہے کہ اگر حضرت عیسٰیؑ دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کے ایسے فاسد عقائد کی اصلاح کی ہوتی تو بڑے زور سے عرض کرتے کہ یا اللہ! میں نے بڑے بڑے جنگ کئے ہیں اور بہت مشکلات اُٹھا کر ان کے مشرکانہ خیالات اور عقائد کی جگہ دو بار ہ تیری توحید ان میں قائم کی ہے۔میں تو بڑے انعامات کا مستحق ہوں چہ جائیکہ مجھ سے ایسا سوال کیا جاتا۔غرض خو د ان کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ وفات پا چکے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔پھر آنحضرتؐنے ان کو معراج کی رات مُردوں میں دیکھا۔بھلا زندوں کو مُردوں سے کیا تعلق ؟ اگر مسیحؑ زندہ تھے تو پھر مُردوں میں کیوں جاشامل ہوئے ؟ اس کے سوا سینکڑوں مقامات قرآن شریف میں ہیں جن سے ان کی وفات ثابت ہے۔عجیب بات ہے کہ یہی تَوَفّی کا لفظ ہے جب اَوروں کے واسطے آوے تو اس کے معنے موت کے کئے جاتے ہیں اور جب حضرت عیسٰیؑ کے واسطے آوے تو کچھ اَور کئے جاتے ہیں۔نہ معلوم یہ خصوصیت حضرت عیسٰیؑ کو کیوں دی جاتی ہے؟ دیکھو حضرت یوسفؑ کی دعا ہے کہ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ (یوسف : ۱۰۲) علاوہ ازیں اور بیسیوں جگہ تَوَفِّی کا لفظ موت ہی کے معنوں میں وار د ہوا ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ تَوَفِّی فعل کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح چیز ہوتو معنے بجز موت کوئی اَور ہو سکتے ہیں۔مسیح کے احیاءِ موتٰی کی حقیقت ان کے مُردے زندہ کرنے کے معجزے کو بھی خواہ مخواہ خصوصیت دی گئی ہے۔تعجب آتا ہے ان مولویوں پر کہ