ملفوظات (جلد 10) — Page 114
بھی نہ کرنا اور اب ہم تمہاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتے اب میں اس فرضِ الٰہی کی تعمیل سے کس طرح سبکدوش ہو سکتا ہوں۔فرمایا کہ قرآن شریف جہاں والدین کی فرمانبرداری اور خدمت گذاری کا حکم دیتا ہے وہاں یہ بھی فرماتا ہے کہ رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ۠ غَفُوْرًا (بنی اسـرآءیل : ۲۶) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہرحال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبرگیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو۔جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مدّنظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحا ظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیم ؑ کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔بہر حال خدا کا حق مقدم ہے۔پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کو شش میں لگے رہو۔اور اُن کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔۱ ۲۶ ؍ فروری ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) ہمارے دعوے کے دو پہلو مسیح کی وفات اور ان کی آمد ثانی فرمایا کہ اصل میں ہمارے دعویٰ کے دو پہلو ہیں ایک تو حضرت عیسٰیؑ کی وفات دوسرا ان کی آمدثانی۔وفات کے متعلق تو ہم ہزاروں بار بیان کر چکے ہیں کہ قرآنِ شریف میں خود مسیح کا۔۔۔اقرار ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخہ ۲؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۴