ملفوظات (جلد 10) — Page 108
کہتے ہیں۔اس کے یہ معنے ہیں کہ جو پراگندہ دل ہو وہ پراگندہ روزی رہتا ہے۔اور اوّل تو صادقوں کے سوانح دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خو د اپنے تئیں پراگندہ روزی بنا لیا۔دیکھو! حضرت ابو بکرؓ تاجر تھے بڑے معز ز، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر سب کو دشمن بنا لیا۔کاروبار میں بھی فرق آگیا یہاں تک کہ اپنے شہر سے بھی نکلے۔یہ بات خوب یاد رکھو کہ سچی تقویٰ ایسی چیز ہے جس سے تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں اور کُل پراگندگیوں سے نجات ملتی ہے۔جھوٹے ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ پر تہمتیں دیتے ہیں۔تمام انبیاء وراستبازوں کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ رحیم وکریم کوئی نہیں۔انسان جو حد سے زیا دہ تنگ ہوجاتا ہے تو یہ اس کی اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔توکّل میں کمی ہوتی ہے صدقِ قدم نہیں ہوتا۔صحیح طور سے مومن معلوم کرنا مشکل ہے انسان کہہ سکتا ہے میں صالح ہوں، زاہد ہوں مگر خدا کے نزدیک وہ بد کار ہو تا ہے۔ایسے ہی بعض ایسے بندے بھی ہیں جو لوگوں میںبُرے سمجھے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی صالح ہیں۔دیکھو! ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بُرا سمجھا مگر اللہ کے نزدیک آپ سرورِ کائنات تھے۔ابو جہل کو آپؐکے بُرے ہونے پر یقین تھا کہ اُس نے مباہلہ تک کر لیا اور کہا۔اَللّٰھُمَّ مَنْ کَانَ اَفْسَدُ لِلْقَوْمِ وَاَقْطَعُ لِلرِّحـْمِ فَاھْلِکْہُ الْیَوْمَ۔معلوم ہوتا ہے اسے پکا یقین تھا جبھی تو یہ کلمات کہے مگر اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ کہ خدا تعالیٰ نے فعلی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ صادق اور پاکباز کون ہے اور کاذب اور بدکار کون؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ( الملک : ۱۱ ) علم صحیح اور عقل سلیم یہ بھی خو ش قسمتی کی نشانیاں ہیں۔جس میں شقاوت ہو اس کی مت ماری جاتی ہے وہ نیک کو بد اور بد کو نیک سمجھتا ہے۔۱ ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۷ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳ ،۴