ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 97

پیدا ہو کر سود کا لین دین جاری ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ فرمایا۔اس طرح سے لوگ حرامخوری کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں کہ جو جی چاہے کرتے پھریں۔ہم نے یہ نہیں کہا کہ بینک کا سود بہ سبب اضطرار کے کسی انسان کو لینا اور کھانا جائز ہے بلکہ اشاعتِ اسلام میں اور دینی ضروریات میں اس کا خرچ جائز ہو نا بتلایا گیا ہے۔وہ بھی اس وقت تک کہ امدادِ دین کے واسطے روپیہ مل نہیں سکتا اور دین غریب ہو رہا ہے کیونکہ کوئی شے خدا کے واسطے تو حرام نہیں۔باقی رہی اپنی ذاتی اور ملکی اور قومی اور تجارتی ضروریات سو اُن کے واسطے اور ایسی باتو ں کے واسطے سود بالکل حرام ہے وہ جواز جو ہم نے بتلایا ہے وہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً کسی جاندار کو آگ میں جلانا شرعاً منع ہے۔لیکن ایک مسلمان کے واسطے جائز ہے کہ اس زمانہ میں اگر کہیں جنگ پیش آوے تو توپ بندوقوں کا استعمال کرے کیونکہ دشمن بھی اس کا استعمال کر رہا ہے۔تراویح کی رکعات تراویح کے متعلق عرض ہوا کہ جب یہ تہجد ہے تو بیس رکعت پڑھنے کی نسبت کیا ارشاد ہے کیونکہ تہجد تو مع وتر گیارہ یا تیرہ رکعت ہے۔فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت دائمی تو وہی آٹھ رکعات ہے اور آپ تہجد کے وقت ہی پڑھا کرتے تھے اور یہی افضل ہے مگر پہلی رات بھی پڑھ لینا جائز ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے رات کے اوّل حصّے میں اسے پڑھا۔بیس رکعات بعد میں پڑھی گئیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت وہی تھی جو پہلے بیان ہوئی۔۱ بلا تا ریخ محرّم کی رسوم شیعہ تو اس غلطی میں تھے ہی ہمارے سنّی بھائی بھی کچھ اس رنگ میں رنگین ہوتے جاتے ہیں اور محرّم کے دنوں میں مرثیہ خوانی کی مجلسوں میں شریک ہوتے، تعزئیے بناتے ہیں۱ بدر جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷