ملفوظات (جلد 10) — Page 96
دے دیتی ہیں مگر اس میں عدالتوں کا کیا گناہ جب اس کا اقرار موجود ہے تو گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ سود دینے پر راضی ہے۔پس وہاں سے ڈگری جاری ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بہتر تھا کہ مسلمان اتفاق کرتے اور کوئی فنڈ جمع کر کے تجارتی طور سے اُسے فروغ دیتے تاکہ کسی بھائی کو سود پر قرضہ لینے کی حاجت نہ ہوتی بلکہ اسی مجلس سے ہر صاحبِ ضرورت اپنی حا جت روائی کر لیتا اور میعاد مقررہ پر واپس دے دیتا۔حکیم فضل دین صاحب نے سنایا کہ علامہ نور الدین بھیرہ میں حدیث پڑھا رہے تھے۔باب الربٰو تھا۔ایک سُود خور سا ہو کار آکر پاس بیٹھ گیا۔جب سود کی ممانعت سنی تو کہا اچھا مولوی صاحب آپ کو نکاح کی ضرورت ہو تو پھر کیا کریں ؟ انہوں نے کہا بس ایجاب قبول کر لیا جائے۔پوچھا اگر رات کو گھر میں کھانا نہ ہو تو پھر کیا کرو؟ کہا۔لکڑیوں کا گٹھا باہر سے لاؤں روز بیج کر کھاؤں۔اس پر کچھ ایسا اثر ہو ا کہ کہنے لگا آپ کو دس ہزار تک اگر ضرورت ہو تو مجھ سے بلا سود لے لیں۔فرمایا۔دیکھو جو حرام پر جلدی نہیں دوڑتا بلکہ اس سے بچتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لیے حلال کا ذریعہ نکال دیتا ہے۔مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا (الطلاق: ۳ ) جو سود دینے اور ایسے حرام کاموں سے بچے خدا تعالیٰ اس کے لئے کوئی سبیل بنا دے گا۔ایک کی نیکی اور نیک خیال کا اثر دوسرے پر بھی پڑتا ہے۔کوئی اپنی جگہ پر استقلال رکھے تو سود خور بھی مفت دینے پر راضی ہو جاتے ہیں۔۱ بلاتا ریخ بنک کا سُود ایک صاحب کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ جب بینکوں کے سود کے متعلق حضور نے اجازت دی ہے کہ موجودہ زمانہ اور اسلام کے حالات کو مدّ نظر رکھ کر اضطرارکا اعتبار کیا جائے سو اضطرار کا اصول چونکہ وسعت پذیر ہے اس لیے ذاتی، قومی، ملکی، تجارتی وغیرہ اضطرارات بھی ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵،۶