ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 95

لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے کہ متقی کے لئے خدا تعالیٰ کبھی ایسا موقع نہیں بناتا کہ وہ سودی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔یاد رکھو! جیسے اَور گناہ ہیں مثلاً زنا، چوری ایسے ہی یہ سود دینا اور لینا ہے۔کس قدر نقصان دہ یہ بات ہے کہ مال بھی گیا، حیثیت بھی گئی اور ایمان بھی گیا۔معمولی زندگی میں ایسا کوئی اَمر ہی نہیں کہ جس پر اتنا خرچ ہو جو انسان سود ی قرضہ لینے پر مجبور ہو۔مثلاً نکاح ہے اس میں کوئی خرچ نہیں۔طرفین نے قبول کیا اور نکاح ہو گیا۔بعد ازاں ولیمہ سنّت ہے۔سو اگر اس کی استطاعت بھی نہیں تو یہ بھی معاف ہے۔انسان اگر کفایت شعاری سے کام لے تو اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ لوگ اپنی نفسانی خواہشوں اور عارضی خوشیوں کے لیے خدا تعالیٰ کونا راض کر لیتے ہیں جو ان کی تباہی کا موجب ہے۔دیکھو سود کا کس قدر سنگین گناہ ہے۔کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں؟ سؤر کا کھانا تو بحالت اضطرار جائز رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ( البقرۃ : ۱۷۴) یعنی جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے مگر سود کے لئے نہیں فرمایا کہ بحالت اضطرار جائز ہے بلکہ اس کے لئے تو ارشاد ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ( البقرۃ : ۲۷۹، ۲۸۰) اگر سُود کے لین دین سے باز نہ آؤ گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو خدا تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے اسے حاجت ہی نہیں پڑتی۔مسلمان اگر اس ابتلا میں ہیں تویہ ان کی اپنی ہی بدعملیوں کا نتیجہ ہے۔ہندو اگر یہ گناہ کرتے ہیں تو مالدار ہو جاتے ہیں۔مسلمان یہ گناہ کرتے ہیں تو تباہ ہو جاتے ہیں۔خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةَ کے مصداق ہیں پس کیا ضروری نہیں کہ مسلمان اس سے باز آئیں ؟ انسا ن کو چاہیے کہ اپنے معاش کے طریق میں پہلے ہی کفایت شعاری مدّ نظر رکھے تا کہ سودی قرضہ اُٹھانے کی نوبت نہ آئے جس سے سود اصل سے بڑھ جاتا ہے۔ابھی کل ایک شخص کا خط آیا تھا کہ ہزار روپیہ دے چکا ہوں۔ابھی پانچ چھ سو باقی ہے۔پھر مصیبت یہ ہے کہ عدالتیں بھی ڈگری