ملفوظات (جلد 10) — Page 93
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۳ جلد دہم ۱۲ جنوری ۱۹۰۸ء جمعہ کے دن مرنا ، مرتے وقت ہوش کا قائم رہنا یا چہرہ عوام میں مشہور ایمان کی علامات کا رنگ اچھا ہونا۔ ان علامات کو ہم قاعدہ کلیہ کے طور سے ایمان کا نشان نہیں کہہ سکتے کیونکہ دہر یہ بھی اس دن کو مرتے ہیں۔ ان کا ہوش قائم اور چہرہ سفید رہتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض امراض ہی ایسے ہیں مثلاً دق وسل کہ ان کے مریضوں کا اخیر تک ہوش قائم رہتا ہے بلکہ طاعون کی بعض قسمیں بھی ایسی ہی ہیں ۔ ہم نے بعض دفعہ دیکھا کہ مریض کو کلمہ پڑھایا گیا اور لیس بھی سنائی۔ بعد ازاں وہ بچ گیا اور پھر وہی برے کام شروع کر دیئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صدق دل سے ایمان نہیں لایا۔ اگر سچی توبہ کرتا تو کبھی ایسا کام نہ کرتا۔ اصل میں اس وقت کا کلمہ پڑھنا ایمان لانا نہیں ۔ یہ تو خوف کا ایمان ہے جو مقبول نہیں ۔ ۱۳ جنوری ۱۹۰۸ء (بوقت ظهر) لے فرمایا۔ گویا ان کے نزدیک اپنی ہی قوم میں دجال، اپنی ہی میں کافر ۔ علماء کے نزدیک اپنی ہی میں سب ہدیاں ہیں۔ باہر نظر نہیں جاتی تا دیکھیں کہ دجالیت کس فرقے میں ہے اور کفار کون ہیں ۔ ہے ۱۸ جنوری ۱۹۰۸ء ۔ جو الہام یا خواب ہمارے مقابل پیش کئے جائیں ہمارے مقابل پر خواب اور الہام ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیش از وقت دعوے بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۳ بدر جلدے نمبر ۴ مورخه ۳۰ جنوری ۱۹۰۸ ء صفحه ۳