ملفوظات (جلد 10) — Page 92
کرتے رہنا۔بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے۔یہ ہے تو سب کچھ ہے۔والسلام۱ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء اپنی کتابوں میں تکرارِ مضامین کی وجہ فرمایا۔ہم جو کتاب کو لمبا کر دیتے ہیں اور ایک ہی بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں اس سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ مختلف طبائع مختلف مذاق کے ناظرین کسی نہ کسی طریقے سے سمجھیں اور شاید کسی کو کوئی نکتہ دل لگ جائے اور اسی سے ہدایت پالے اور یوں بھی اکثر دل جو طرح طرح کی غفلتوں سے بھرے ہوئے ہیں اُن کو بیدار کرنے کے لیے ایک بات کا بار بار بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔آریوں کا رویہ تقویٰ سے بعید ہے فرمایا۔عیسائیو ں کی دشمنی تو اسلام سے پرانی ہو گئی ہے اور ان کے پادری اب گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔مگر یہ آریہ ابھی تازہ تازہ دشمنی رکھتے ہیں اس لیے زیادہ پُر جوش ہیں۔مگر افسوس کہ ان میں طلبِ حق نہیں۔اُن کے اعتراضوں سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کے معترضوں نے صحیح طور سے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا۔چنانچہ یہ لکھتا ہے کہ مسلمان کہتے ہیں قرآن آسمان سے لکھا لکھایا اُترا۔بھلاجی وہ کس طرح اُترا؟ دراصل مسلمان جو استعارے کے رنگ میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید آسمان سے اترا ہے اس کے غلط معنے اس نے کر لیے مگر یہ طریق تقویٰ سے بہت بعید ہے۔۲ ۱،۲بدر جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۳