ملائکۃ اللہ — Page 85
۸۵ ملائكة الله فرماتا ہے اِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَا عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق:۵) کہ ہر ایک انسان پرفرشته مقرر ہے جو اسے شیطانی تحریکوں سے بچاتا ہے اور نیکی کی تحریکیں کرتا ہے مگر ایک دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان اس فرشتہ کی تحریکوں کو مان لیتا ہے تو ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اب شیطان اس کے ساتھ ہی نہ رہے اور اسے بالکل محفوظ کر دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان کے قلب پر اثر کئی ذرائع سے ہوتا ہے کبھی آنکھ کے ذریعہ کبھی ناک کے ذریعہ، کبھی کان کے ذریعہ، کبھی زبان کے ذریعہ غرضیکہ کئی ذرائع ہیں خدا تعالیٰ ان سب ذرائع کے لئے محافظ مقرر کر دیتا ہے۔گویا جب کوئی انسان نیک تحریکوں کو مانتا جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اور فرشتے اس کے محافظ مقرر کر دیتا ہے جو اُن دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں جن کے ذریعہ شیطان داخل ہو کر قلب پر اثر ڈالتا ہے۔پہلے تو سب دروازوں پر ایک فرشتہ تھا کہ وہ چکر لگا تا اور دیکھتا رہے کہ کسی دروازے سے شیطان داخل نہ ہو سکے پھر ترقی کرتے کرتے اس طرح ہوتا ہے کہ ہر سوراخ پر فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَهُ مُعَقِّبَت من b بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ الله (الرعد:۱۲) لوگوں نے غلطی سے اس آیت کو ہر انسان کے متعلق سمجھا ہے مگر اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ذکر ہے۔اور آہ کی ضمیر آپ ہی کی طرف جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا ایسا بندہ ہے کہ اس کے آگے اور پیچھے محافظ مقرر ہیں۔کوئی شیطانی تحریک نہیں جو شیطانی ہو کر اس کے پاس پہنچے ہر ایک شیطانی تحریک اس کے پاس آکر رُک جائے گی اور اس تک نہیں پہنچ سکے گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے لئے ایک ہی فرشتہ مقرر ہوتا ہے لیکن جو خدا