ملائکۃ اللہ — Page 2
ملائكة الله ہے کہ لکھتے جائیں کیونکہ انسانی دماغ کی بناوٹ خدا تعالیٰ نے اس طرز کی بنائی ہے کہ جتنے زیادہ حواس کسی چیز کے معلوم کرنے کے لئے لگائے جائیں اسی قدر وہ زیادہ محفوظ رہتی ہے۔جس چیز کے دریافت کرنے میں ایک حسن کام کرے اس کا اثر دماغ پر بنسبت اس کے کم ہوگا جس کی دریافت کرنے میں دوستیں لگتی ہیں۔اور جب کوئی شخص کسی بات کو سنتا بھی جائے اور ساتھ ساتھ لکھتا بھی جائے تو اس کی دو طاقتیں خرچ ہوں گی۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی نظر بھی اس بات پر پڑتی جائے گی اور کیا بلحاظ اس کے کہ اس کی قوت ارادی بہت جوش میں ہوگی اس کے دماغ پر زیادہ گہرا اثر پڑے گا۔ہاں وہ لکھنا نہیں جو اخباروں والے لکھتے ہیں کیونکہ ان پر لکھنے کا اتنازیادہ بوجھ ہوتا ہے کہ ان کو یاد نہیں رہ سکتا۔انہوں نے چونکہ دوسروں کے لئے لکھنا ہوتا ہے اس لئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے ہر لفظ کو محفوظ کر لیں۔لیکن دوسرے چونکہ خلاصہ لکھتے ہیں اس لئے وہ اس پر غور کر سکتے ہیں۔اور جب غور کر لینے کے بعد لکھتے ہیں تو ان کے حافظہ سے وہ بات باہر نہیں جاسکتی اور جوں جوں وہ لکھیں گے ان کی نظر اس پر پڑتی جائے گی اور اس طرح وہ بات ان کے حافظہ میں اور زیادہ محفوظ ہوتی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے پرانے بزرگ اس بات کی احتیاط کرتے تھے کہ جب درس دیتے تو سننے والوں کو کاپی اور قلم دوات کے بغیر نہ بیٹھنے دیتے۔لکھا ہے کہ امام مالک درس دیا کرتے تھے ان کے درس میں امام شافعی آگئے۔امام مالک مدینہ میں رہتے تھے اور یہ مکہ سے گئے تھے۔ان کی عمر بھی چھوٹی تھی۔یعنی تیرہ سال کی تھی۔جب دو تین دن ان کے درس میں بیٹھے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کے پاس کا پی اور قلم دوات نہیں تو امام مالک نے انہیں کہالڑ کے تو کیوں یہاں بیٹھا کرتا ہے؟ امام مالک کو بُرا معلوم ہوا کہ جب درس میں آتا ہے تو لکھتا کیوں نہیں؟ امام شافعی کو خدا نے ایسا حافظہ دیا تھا کہ جو بات سنتے یاد ہو جاتی۔انہوں نے کہا پڑھنے کے لئے آیا