ملائکۃ اللہ — Page 59
۵۹ ملائكة الله دوسرے اس اعتراض کا رڈ اس طرح بھی ہو جاتا ہے کہ مادی دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک چیز کے اسباب مقرر ہیں۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ملائکہ کو ماننے سے خدا کو ان کا محتاج ماننا پڑیگا وہ مانتے ہیں کہ کھانے کے ذریعے پیٹ کا بھر نا خدا کا قانون ہے۔ہم کہتے ہیں کیا کھانے کے ذریعہ پیٹ بھرنے کا قانون بنانے سے خدا اس بات کا محتاج ہو گیا کہ وہ بندہ کا پیٹ کھانے سے بھرے؟ اسی طرح بیماری ہے خدا نے دوائی کے ذریعہ اس کا علاج مقرر کیا ہے۔کیا خدا دوائی کا محتاج ہو گیا ؟ اسی طرح روشنی کے لئے خدا نے سُورج بنایا ہے کیا خدا سورج کا محتاج ہو گیا؟ وجہ کیا ہے کہ جسمانی سلسلہ میں اسباب مقرر کرنے سے تو محتاج نہیں ہوتا لیکن اگر روحانی سلسلہ میں فرشتوں کو اسباب مقرر کرے تو محتاج ہو جاتا ہے۔تیسرارڈ اس اعتراض کا یہ ہے کہ وہی اسباب دنیا میں کمزوری ظاہر کیا کرتے ہیں جن کے بغیر کوئی کام نہ کر سکے وہ اسباب کمزوری کا باعث نہیں ہوتے جو اپنے قبضہ اور اختیار میں ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کسی سے ناراض ہے اور اس سے بولتا نہیں۔لیکن ایک اور شخص کو اس کے متعلق کہہ دیتا ہے کہ فلاں شخص یہاں نہ آئے۔تو کیا وہ کہے گا کہ یہ گونگا ہے؟ بول ہی نہیں سکتا کہ مجھ سے نہیں بولا نہیں۔یہ اعتراض غلط ہوگا کیونکہ وہ دوسروں سے بولتا ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں خدا نے ملائکہ کو بلا اسباب کے پیدا کر لیا کہ نہیں۔اگر ان کو پیدا کرلیا تو معلوم ہوا کہ بلا اسباب کے بھی خدا کام تو کر سکتا ہے لیکن ملائکہ کو اس نے کسی حکمت کے ماتحت اسباب مقرر کیا ہے۔پس ملائکہ کی پیدائش جب ایسی ہے کہ خدا نے بلا اسباب کے کی ہے تو معلوم ہوا کہ ان کا مقرر کرنا کسی حکمت کے ماتحت ہے نہ کہ خدا ان کا محتاج ہے اور ان کے بغیر وہ کچھ کر نہیں سکتا۔