ملائکۃ اللہ — Page 51
۵۱ ملائكة الله بار یک ذروں کا مجموعہ ہیں۔حتی کہ امریکہ کے ایک سائنس دان نے ایسا ذرہ دریافت کیا ہے کہ جو انسان کے جسم میں سے گزر جاتا ہے۔ہوا جسم میں سے نہیں گزر سکتی مگر وہ ذرہ جب جسم پر لگتا ہے تو دوسری طرف نکل جاتا ہے۔پس یہ مادی تحقیقات سے ثابت ہے کہ جو چیز بھی ہمیں نظر آتی ہے وہ بار یک در باریک ہوتی جاتی ہے اور نہایت لطیف در لطیف ذروں کا مجموعہ ہوتی ہے۔جب ہر ایک چیز اپنی طاقت ایسے لطیف منبع سے حاصل کرتی ہے جو نظروں سے پوشیدہ ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ اس لطافت کی طرف جانے میں کوئی حکمت ہے۔اور وہ یہی ہے کہ اشیاء پر ملائکہ کا تصرف ہے جو خود نہایت لطیف ہیں۔غرض دُنیا کی اشیاء کا سلسلہ ایک بار یک در باریک ذرات کی طرف جانا بتاتا ہے کہ باریک ہی ان کے منتظم ہوں۔اور اشیاء کی لطافت دلالت کرتی ہے کہ ان پر لطیف ارواح ہی کام کر رہی ہیں اور وہی ملائکہ ہیں۔(۳) معتبر شہادت سے بھی کسی چیز کے ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔مثلاً جب لوگ لندن سے آکر کہتے ہیں کہ لندن ایک شہر ہے تو لوگ ان کی اس بات پر اعتبار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ملائکہ کے وجود کے متعلق جب اتنے معتبر آدمی کہتے چلے آئے ہیں کہ ہیں تو پھر ان کو کیوں نہ مانیں؟ اگر شہادت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تو پھر لندن بھی انہی لوگوں کے نزدیک ہونا چاہئے جو اسے دیکھ آئیں۔اور جو نہیں دیکھ آئے ان کے نزدیک لندن کی بھی کچھ حقیقت نہیں ہونی چاہئے۔کوئی کہے کہ لندن تو ہر شخص جا کر دیکھ سکتا ہے مگر ملائکہ کو تو ہر شخص نہیں دیکھ سکتا۔ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے کہ ہر شخص لندن کو دیکھ سکتا ہے لندن وہی شخص دیکھ سکتا ہے جس کے پاس پیسہ ہو۔اسی طرح ہم کہتے ہیں ملائکہ کو دیکھنے کی جس میں قوت