ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 45

۴۵ ملائكة الله کیوں اسی وقت نہ لکھ لی ؟ جو کچھ سکھایا گیا تھا اسے اسی وقت لکھ لینا چاہئے تھا۔اس دن کے بعد آج تک میں سورہ فاتحہ پر کبھی نہیں بولا کہ مجھے اس کے نئے نئے نکات نہ سمجھائے گئے ہوں۔میں سمجھتا ہوں یہ اسی علم کی وجہ ہے جو مجھے سکھایا گیا۔ایک دفعہ مجھے اس علم کا خاص طور پر تجربہ ہوا۔ہمارے سکول کی ٹیم امرتسر کھیلنے کے لئے گئی۔میں اس وقت اگر چہ سکول سے نکل آیا تھا لیکن مدرسہ سے تعلق تھا کیونکہ میں نیا نیا نکلا تھا اس لئے میں بھی ساتھ گیا۔وہاں ہمارے لڑکے جیت گئے اس کے بعد وہاں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا اور مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا۔جب ہم اس جلسہ میں گئے تو راستہ میں میں ساتھیوں کو سنا تا جارہا تھا کہ خدا تعالیٰ کا میرے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ جب بھی میں سورۃ فاتحہ پر تقریر کروں گا نئے نکات سمجھائے جائیں گے۔جلسہ میں پہنچ کر جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو کوئی آیت سوائے سورۃ فاتحہ کے میری زبان پر ہی نہ آئے۔آخر میں نے خیال کیا کہ میرا امتحان ہونے لگا ہے اور مجھے مجبور اسورۃ فاتحہ پڑھنی پڑی۔اس کے متعلق کوئی بات میرے ذہن میں نہ تھی۔میں نے یونہی پڑھی لیکن پڑھنے کے بعد فوراً میرے دل میں ایک نیا نکتہ ڈالا گیا اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورۃ فاتحہ اُتری ہے اس وقت آپ کے مخاطب کفار تھے یہودی اور عیسائی نہ تھے مگر دعا اس میں یہ سکھائی گئی ہے کہ ہمیں یہودی اور عیسائی بننے سے بچا کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔حالانکہ چاہئیے یہ تھا کہ جو سامنے تھے ان کے متعلق دعا سکھائی جاتی کہ ہم ان کی طرح نہ بنیں۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ مشرکین نے چونکہ تباہ و برباد ہوجانا تھا اور بالکل مٹائے جانا تھا اس لئے ان کے متعلق دُعا کی ضرورت نہ تھی لیکن عیسائیوں اور یہودیوں نے چونکہ قیامت تک رہنا تھا اس لئے ان کے متعلق دعا سکھائی گئی۔یہ نکتہ معا مجھے سمجھایا گیا اور میں نے خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا کہ اس موقعہ پر اس نے