ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 44

۴۴ ملائكة الله ہیں اسی حصہ دماغ میں ڈالتے ہیں۔الا ماشاء اللہ۔دماغ کے تین حصے ہوتے ہیں۔ایک وہ حصہ جس کے ذریعہ ہم چیزوں کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔دوسرا وہ حصہ جو ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔اس میں باتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں جو یاد کرنے پر یاد آجاتی ہیں اور تیسر اوہ حصہ جس میں ذخیرہ تو ہوتا ہے مگر یاد کرنے سے بھی اس میں جو کچھ ہو یا نہیں آتا بلکہ بہت کریدنے سے وہ بات سامنے آتی ہے۔ملائکہ کبھی اس تیسرے حصے میں بھی علوم داخل کر جاتے ہیں جب ان کی ضرورت ہو اس وقت ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ وہ علوم سامنے آجاتے ہیں۔یوں یاد کرنے سے نہیں آتے۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔میری کوئی ۱۷-۱۸ سال کی عمر ہوگی۔حضرت مسیح موعود کا زمانہ تھا۔اس وقت میں نے رسالہ تشخیز نکالا تھا۔خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے جو مجھے کہتا ہے کیا تمہیں کچھ سکھائیں؟ میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھائیں؟ میں نے کہا ہاں سکھائیے۔اس رؤیا کا بھی عجیب نظارہ تھا۔یہ شروع اس طرح ہوئی کہ پہلے مجھے ٹن کی آواز آئی اور پھر وہ پھیلنے لگی اور پھیل کر ایک میدان بن گئی۔اس میں سے مجھے ایک شکل نظر آنے لگی۔جو ہوتے ہوتے صاف ہوگئی۔اور میں نے دیکھا کہ فرشتہ ہے۔اس نے مجھے کہا تمہیں علم سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ۔اس نے کہا لوسورہ فاتحہ کی تفسیر سیکھو۔اس پر اس نے سکھانی شروع کی اور اتياكَ نَعْبُدُ پر پہنچ کر کہا کہ سب نے اسی حد تک تفسیریں لکھی ہیں آگے نہیں لکھیں۔میں بھی اس وقت سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہے۔پھر اس نے کہا مگر میں تمہیں اس سے آگے سکھاتا ہوں۔چنانچہ اس نے ساری سورۃ کی تفسیر سکھائی اور میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت مجھے اس کی ایک دو باتیں یاد تھیں جن کی نسبت اتنا یاد ہے کہ نہایت لطیف تھیں مگر دوبارہ سونے کے بعد جب میں اٹھا تو میں وہ بھی بھول گیا۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کو جب میں نے یہ رویا سنائی تو آپ بہت ناراض ہوئے کہ