ملائکۃ اللہ — Page 35
آگے فرماتا ہے:۔۳۵ ملائكة الله سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ (ال عمران: ۱۵۲) کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔پس ہر انسان کے ساتھ جو ملگ ہوتا ہے وہ نبی اور اس کی جماعت کا رُعب ڈالتا رہتا ہے۔رُعب کی مثال اس زمانہ میں بھی ملتی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اپنے مخالفین کو بلایا کہ مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔وجہ یہ کہ جب وہ سامنے کھڑے ہونے کا خیال کرتے تو فرشتہ ان کے دل میں رُعب ڈال دیتا کہ مارے جاؤ گے اس لئے وہ ہٹ جاتے۔جن دنوں میں شملہ گیا وہاں مجھے ایک آریہ ملنے کے لئے آیا۔ویدوں کے متعلق گفتگو ہوئی۔میں نے کہا کہ اگر تمہیں ویدوں کے بچے ہونے کا یقین ہے تو قسم کھاؤ۔کہنے لگا ہاں میں قسم کھانے کو تیار ہوں۔میں نے کہا اس طرح قسم کھاؤ اگر یہ بچے نہ ہوں تو میری بیوی بچوں پر عذاب آ جائے۔کہنے لگا یہ تو نہیں ہوسکتا یہ کہتے ہوئے دل ڈرتا ہے۔میں نے کہا میں قرآن کے متعلق اسی طرح قسم کھانے کو تیار ہوں کہنے لگا یہ تو بڑی جرات ہے۔میں نے کہا کہ جب مجھے یقین ہے کہ قرآن سچا اور خدا کا کلام ہے تو جرأت کیوں نہ ہو؟ بات یہی ہے کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں ملائکہ رعب ڈالتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی اس کی مثال موجود ہے کہ بار بار چیلنج دیا گیا مباہلہ کر لومگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہو سکا۔ابھی صوفیت کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب حسن نظامی نامی اُٹھے اور انہوں نے لکھا کہ آؤ میں ایک گھنٹہ میں جان نکال لونگا۔آخر اتنے ذلیل ہوئے کہ بالکل خاموش ہو گئے۔پھر دیو بندیوں کو دیکھو کتنے اشتہار لکھے اور شائع کئے مگر جب ہمارے اشتہار کا کوئی جواب ہی نہیں دیتے جو کئی ماہ سے نکلا ہوا ہے تو مباہلہ کے خیال پر انکے دل پر رعب چھا جاتا ہے۔