ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 34

۳۴ ملائكة الله وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُ وَ بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَامَا تدعُونَ (لحم السجدة : ۳۱-۳۲) وہ لوگ جو کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔پھر وہ اس بات پر قائم ہو جاتے ہیں۔کوئی چیز انہیں اس سے پھر انہیں سکتی۔ان پر ملائکہ اترتے ہیں اور کہتے ہیں تمہیں بشارت ہو جنت کی۔تم ڈرو نہیں۔ہم تمہارے مددگار ہیں۔اس دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔اور جنت میں جو کچھ تم چاہو گے وہی تمہیں ملے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض فرشتوں کا کام مؤمنوں کی مدد کرنا ہے۔پانچواں کام یہ معلوم ہوتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ فرشتے جب نظر آ جائیں تو وہ کفار اور مشرکین کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ایک کام ان کا یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر ملک جو انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ نبی اور اس کی جماعت کا رُعب انسان کے دل پر ڈالتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:- إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ الَن تَكْفِيكُمْ أَنْ تُمدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَثَةِ آلَافٍ مِّن الْمَلئِكَةِ مُنْزَلِينَ (ال عمران: ۱۲۵) کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ تین ہزار ملائکہ تمہاری مدد کو آ جائیں۔تین ہزار ملائکہ کیوں فرمایا؟ اس لئے کہ اس موقع پر دشمن کی فوج اتنی ہی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ اعلیٰ درجہ کے فرشتے نہیں تھے بلکہ وہ تھے جو ہر انسان کے ساتھ ایک ایک لگا ہوا ہے۔کیونکہ فرمایا کیا یہ کافی نہیں ہے؟ کہ ہم تین ہزار ملائکہ سے تمہاری مدد کریں۔یعنی جب تم دشمن کے مقابلہ پر جاؤ تو وہ تمہارا رعب ہر ایک کے دل میں ڈالنا شروع کر دیں۔چنانچہ