ملائکۃ اللہ — Page 19
۱۹ ملائكة الله لَوْ مَا تَأْتِيْنَا بِالْمَلَئِكَةِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّدِقِينَ ( الحجر : ٨) کیوں نہیں تو ہمارے پاس فرشتے لا تا اگر تو سچا ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لوگوں میں بھی ملائکہ کا خیال پایا جاتا تھا۔اس مختصر سے ذکر کے بعد میں اسلامی تعلیم کی طرف آتا ہوں اور بتا تا ہوں کہ اسلام نے ملائکہ کے متعلق کیا تعلیم دی ہے؟ ملائکہ کی حقیقت پہلی بات یہ ہے کہ ملائکہ مخلوق ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ جو درجہ ان کو دیا گیا ہے اس سے خیال پیدا ہوتا ہے کہ فرشتے مخلوق نہیں۔چنانچہ اسی وجہ سے عیسائیوں کو دھوکا لگا ہے اور انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ روح القدس مخلوق نہیں بلکہ خدا کا حصہ ہے اور اس کو بھی خدا بنادیا ہے۔لیکن اسلام کہتا ہے کہ فرشتوں کا غیر مخلوق ہونا جھوٹ ہے۔وہ مخلوق ہیں۔چنانچہ فرشتوں کے مخلوق ہونے کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔آمْ خَلَقْنَا الْمَلْئِكَةَ إِنَانًا وَهُمْ شَهِدُونَ (الصُّقْت: ۱۵۱) کیا جب ملائکہ پیدا کئے گئے اس وقت یہ وہاں موجود تھے؟ کہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ فنا ہوں گے یا نہیں ؟ جس طرح ارواح انسانی محفوظ رکھی جائیں گی اسی طرح ملائکہ بھی فنا نہیں کئے جائیں گے یا سب فنا ہو جا ئیں گے یا بعض فنا ہو جا ئیں گے بعض باقی رکھے جائیں