ملائکۃ اللہ — Page 8
ملائكة الله متعلق کہا جاتا تھا کہ خدا نے تقدیر کے ذریعہ کسی کے لئے عذاب نہیں مقرر کر چھوڑا اور ایسا نہیں ہے کہ انسان عذاب سے بچ نہ سکے تو ان خیالات کے باعث جو تقدیر کے متعلق عام طور پر پھیلے ہوئے ہیں جو بوجھ نظر آتا تھا وہ اُتر جاتا تھا اور اس وجہ سے اس مسئلہ کی طرف توجہ قائم رہتی تھی اور لوگ غور سے سنتے تھے۔مگر ملائکہ کو چونکہ غیر متعلق چیز سمجھا جاتا ہے اور ان کی کوئی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی اس لئے شائد توجہ نہ رہے۔پھر ملائکہ کے متعلق عام مصنفین نے بھی کچھ نہیں لکھا۔انہوں نے ان کی کیفیت کو سمجھا ہی نہیں۔حالانکہ ان سے انسان کو ایسے ایسے فوائد پہنچ سکتے ہیں کہ اگر معلوم ہو جائیں تو لوگ بیتاب ہو کر ایسی کتابوں کو پڑھیں جن میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔صوفیاء نے ان کے ذکر کو لیا ہے اور اپنی تصنیفوں میں بیان کیا ہے مگر پھر بھی بہت تھوڑا بیان کیا ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی انسان نے سب سے زیادہ ان کے متعلق بیان کیا ہے تو مسیح موعود نے ہی بیان کیا ہے۔اور آپ ہی نے آکر ان کی حقیقت کے راز سر بستہ کو کھولا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے درمیان اور کسی نے نہیں کھولا۔قرآنِ کریم نے ان کی حقیقت کو کھولا ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں ان کا ذکر ہے۔باقی صوفیاء کے کلام میں بھی ان کا ذکر ہے مگر بہت کم۔اور دوسرے مصنفین نے تو ان کا ذکر ہی نہیں کیا۔معمولی معمولی باتوں کے متعلق تو انہوں نے بیسیوں قصے بیان کر دیئے مگر ملائکہ کی نسبت اس طرح چپ چاپ گزر گئے کہ گویا یہ کوئی چیز ہی نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی حقیقت بیان کرنا بہت مشکل کام تھا اور ان میں بیان کرنے کی طاقت نہ تھی۔لیکن اب چونکہ ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہر چیز کی حقیقت کو کھول دیا جائے تا کہ کسی کو کسی مسئلہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ رہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ ملائکہ کی