ملائکۃ اللہ — Page 109
1+9 ملائكة الله کہتے ہیں کہ ابراہیم ، موسی، داؤ د غر ضیکہ سب نبی گنہ گار تھے اس لئے مسیح کا درجہ ان سب سے بڑا ہے۔مگر یہ ایسی ہی مثال ہے جس طرح کوئی کہے کہ فلاں فلاں جو مُردہ پڑے ہیں میں ان کی نسبت زیادہ طاقتور ہوں۔ایسا ہی خیال شیطان پیدا کرتا ہے کہ لوگوں کو حقارت سے انسان کی نظر میں گرا کر اسے یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ میں بہت بڑا ہوں اور اس طرح عُجب اور تکبر پیدا کر کے اسے ہلاک کر دیتا ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نیکیوں میں موازنہ کا فرق نہیں ہوتا۔یعنی کبھی تو یہ ہوتا ہے کہ بڑی نیکی کو چھوٹی نیکی کے لئے قربان کر دیتا ہے مگر کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ نیکیاں تو ایک ہی جیسی ہوتی ہیں لیکن وہ ایک ہی کی طرف رکھتا ہے اور دوسری نیکی کو بالکل چھڑ دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص جو تبلیغ کرتا ہے اسے شیطان تحریک کرے گا کہ چندہ دینے کی تمہیں کیا ضرورت ہے ایک کام جو کرتے ہو۔یا جو چندہ دے گا اسے کہے گا تبلیغ کرنا ضروری نہیں چندہ جو دے دیتے ہو۔مگر فرشتہ یہی کہتا ہے کہ تبلیغ کرنا بھی نیکی ہے اسے بھی کرو اور چندہ دینا بھی نیکی ہے اسے بھی بجالا ؤ۔آٹھویں بات یہ ہوتی ہے جو بڑی خطرناک ہے کہ جب انسان کوئی نیکی کرنے لگتا ہے اور ایسا انسان ادنیٰ درجہ کا ہوتا ہے اعلیٰ درجہ کا نہیں ہوتا تو شیطان اس کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیتا ہے کہ لوگ کہیں گے کہ یہ ریاء کے طور پر کرتا ہے اس لئے کرنا ہی نہیں چاہئے۔مثلاً ایسا شخص جب مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانے لگے گا تو شیطان اس کے دل میں ڈال دے گا کہ لوگ تجھے دیکھیں گے اور کہیں گے یہ بھی نمازی ہے اور اس طرح ریاء ہو جائے گا اس لئے مسجد میں جانا ہی نہیں چاہئے۔اس طرح شیطان نماز باجماعت سے روک دے گا لیکن ملائکہ کی طرف سے جو تحریک ہوتی ہے اس میں شریعت کے ادب کو