ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 108

ملائكة الله چوتھا فرق یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا امرجس میں مشتبہ باتیں بھی ہوں۔یعنی جن کے متعلق خیال ہو کہ ممکن ہے اچھی ہوں اور ممکن ہے بری ہوں۔اس کے متعلق جب ملائکہ کی طرف سے تحریک ہوگی تو اس طرح ہوگی کہ مشتبہ باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور ان کو عمل میں نہ لایا جائے۔لیکن شیطانی تحریک اس طرح ہوگی کہ ان کے کرنے میں حرج کیا ہے، کر لی جائیں۔اس طرح ان پر وہ عمل کرالیتا ہے اور جب ان پر عمل کرالیتا ہے تو اس کو مقام قرار دے دیتا ہے اور اس سے اگلی باتوں کو حد ٹھہرا دیتا ہے۔پھر اس سے آگے چلاتا ہے اور حد پر عمل کرا کر اسے مقام بنا دیتا ہے۔اسی طرح آگے ہی آگے چلاتا جاتا ہے اور بڑی بڑی بدیاں کرالیتا ہے۔پھر ایک اور بھی فرق ہے۔اور وہ یہ کہ ملکی تحریک وہ ہوتی ہے کہ جس میں انسان جب مشغول ہو تو اس میں ترقی دی جاتی ہے۔مثلاً نماز میں مشغول ہو تو اور عمدگی سے پڑھنے کی تحریک ہوگی مگر شیطانی تحریک یہ ہوگی کہ جس میں انسان مشغول ہوگا وہ چھڑ اکر دوسری پر عمل کرایا جائے گا۔غرض اس سے شیطان کی یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ ایک شخص نیکی کا کام کر رہا ہے یہ تو اس سے چُھڑاؤ۔اور جب اس کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے گا تو پھر و اس کو دیکھا جائے گا۔چھٹا فرق یہ ہوتا ہے کہ شیطانی تحریک کبھی اس قسم کی ہوتی ہے کہ انسان پر دوسرے کے عیبوں اور نقصوں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔مگر ملک کی تحریک والا شخص دوسرے کے متعلق نیک ہی خیال کریگا کیونکہ ملائکہ کی طرف سے حسن ظنی کا ہی خیال ڈالا جاتا ہے مگر شیطانی تحریک میں لوگوں کے عیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور اس طرح یہ خیال پیدا کیا جاتا ہے کہ فلاں میں یہ عیب ہے فلاں میں یہ عیب ہے لیکن میں بڑا ولی ہوں عیسائیوں کی طرح کہ وہ