ملائکۃ اللہ — Page 106
1+4 ملائكة الله اس کو اس کا دل ہی جانے گا، اس وقت اسے اپنے دل کی بات کو ہی ماننا چاہئے جو کہ رہا ہوگا کہ یہ نا جائز ہے۔فتویٰ کو نہیں ماننا چاہئے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواہ کوئی فتویٰ دے دے کہ فلاں بات کر لو لیکن اگر اپنے دل میں اس کا کوئی بد پہلو پیدا ہو تو اسے نہیں کرنا چاہئے اور چھوڑ دینا چاہئے۔ملکی اور شیطانی تحریک میں تیسرا فرق یہ ہے کہ ملک کی تحریک میں ترتیب ہوتی ہے وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتی ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے بچہ کو ماں پہلے اٹھا کر چلتی ہے۔پھر اسے پکڑ کر چلاتی ہے اور اس طرح آہستہ آہستہ بچہ چلنا سیکھ جاتا ہے۔لیکن شیطانی تحریک کی یہ مثال ہوگی کہ جس طرح دشمن بچہ کو اٹھا کر پھینک دے۔یا پھر ملکی اور شیطانی تحریک کی مثال یہ ہے کہ جو استا دلڑ کے کا خیر خواہ ہوگا وہ تو اسے ا۔ب شروع کرائے گا اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کراتا جائے گالیکن اگر دشمن استاد ہوگا تو پہلے ہی ایسا مشکل سبق پڑھائے گا کہ لڑکا اُکتا کر بھاگ جائے گا۔تو ملکی تحریک درجہ بدرجہ ہوگی یکدم کسی بات کا بوجھ انسان پر نہیں آ پڑے گا اور کسی امر میں جلدی نہیں کرائی جائے گی۔لیکن جب ایسا نہ ہو ، یکلخت کوئی بوجھ پڑتا ہو اور جلدی کی تحریک ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ملکی نہیں بلکہ شیطانی تحریک ہے۔مثلاً شیطان اس طرح تحریک کرے گا کہ آج ہی ولی بن جاؤ اور اس کے لئے سارا دن نماز پڑھو اور تمام سال روزے رکھو لیکن اگر کوئی اس پر عمل کرے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اُکتا کر اور بد دل ہو کر نماز اور روزہ کو بالکل ہی چھوڑ دے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بعض لوگ ساری رات تہجد پڑھتے رہتے اور دن کو روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے اس کو پسند نہ کیا اور فرمایا یہ