ملائکۃ اللہ — Page 102
۱۰۲ ملائكة الله تحریکات کے ذریعہ ہی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہاں جب وہ شیطان کے قبضہ میں چلا جاتا ہے تب بڑی تحریکوں کے ذریعہ گمراہ کرتا ہے۔اس کی تشریح میں آگے چل کر کروں گا۔اس وقت اتنا بتا تا ہوں کہ شیطان کی تحریک کی دوشاخیں ہوتی ہیں۔ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیطان بھی نیکی کی تحریک کرتا ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان اس کی تحریکوں سے بچے؟ ممکن ہے انسان ایک نیک کام کرے مگر شیطان اس سے کرا رہا ہو۔جب بُرا کام ہو تب تو معلوم ہوسکتا ہے کہ شیطانی ہے لیکن یہ کیونکر معلوم ہو کہ ایک نیک کام بھی شیطان کی تحریک کے ماتحت ہو سکتا ہے۔اس کے لئے میں موازنہ کر کے بتاتا ہوں کہ فرشتے اور شیطان کی تحریک میں کیا امتیازات ہوتے ہیں۔اوّل یہ بات یاد رکھو کہ فرشتے کی طرف سے وہی تحریک ہوگی جس کا نتیجہ نیک ہوگا۔بعض دفعہ ایک تحریک بظاہر نیک معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا نتیجہ بد ہوتا ہے اور بعض دفعہ نیک تحریک ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ بھی نیک ہوتا ہے۔پس جب کسی تحریک پر عمل کرنے لگو تو سوچ لو کہ اس کا نتیجہ تو بد نہیں ہوگا۔مثلاً نیکی کی تحریک ہوئی کہ فلاں بھائی نماز نہیں پڑھتا اس کو سمجھا ئیں مگر جب سمجھانے لگے تو اس کا طریق یہ اختیار کیا کہ جہاں بہت سے آدمی بیٹھے تھے وہاں اسے کہہ دیا کہ تو نماز نہیں پڑھتا اس لئے منافق ہے اس منافقت کو چھوڑ دے۔یہ تحریک تو نیک تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اتنے آدمیوں کے سامنے جو اس کو اس طرح کہا جائے گا تو وہ نماز کا ہی انکار کر دے گا۔حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ آپ کا ایک داماد وہابی تھا۔آپ سے ملنے کے لئے ایک رئیس آیا جس کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا۔اس نے اس کے ٹخنے پر مسواک ماری اور کہا تو جہنمی ہے کہ اس طرح پاجامہ پہنے ہوئے ہے۔اس پر