ملائکۃ اللہ — Page 101
1+1 ملائكة الله اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ جب انسان کو ملائکہ یا شیطان کی طرف سے مدد آتی ہے۔نیک باتیں فرشتہ سمجھاتا ہے اور بُری باتیں شیطان۔تو پھر بُرائی کرنے میں انسان کا گناہ کیا ہوا۔مان لیا کہ برائی انسان نے کی مگر شیطان نے بھی تو اس میں امداد دی۔اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ شیطان کی تحریک پیدا ہونے پر انسان کو گناہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے دبانے اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں اسے ثواب ہوتا ہے۔ہاں اگر اس پر عمل کرے تو پھر گناہ ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہا میرے دل میں ایسے ایسے بُرے خیال آتے ہیں کہ زبان کٹ جائے۔انہیں بیان کرنے کو دل نہیں چاہتا۔فرمایا یہی بات ہے جو نور ایمان ہے۔تو شیطانی تحریک جو ہے وہ خود گناہ نہیں ہوتی۔اگر انسان کے دل میں کوئی وسوسہ پیدا ہو اور وہ اسے ترک کر دے تو گناہگار نہ ہوگا۔چنانچہ قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحاسِبكُمْ بِهِ الله ط (البقرة: ۲۸۵) تمہارے دل میں جو کچھ ہے تم اسے چھپا رکھو یا ظاہر کر وہ تم سے خدا حساب لے گا۔اس میں بتایا ہے کہ یہ نہیں کہ کوئی خیال پیدا ہونے پر سزادی جائے گی بلکہ اگر اسے دل میں محفوظ رکھ چھوڑو گے یا پھیلا ؤ گے تو تمہارا محاسبہ ہوگا۔پس شیطانی تحریک کو ظلم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ایسی تحریک ہزار بار ہوا گر انسان اسے نہیں مانتا تو گنہگار نہیں ہوگا بلکہ اسے ثواب ہوتا رہے گا۔اب یہ سوال ہے کہ تحریک شیطان کی ہوتی کس طرح ہے؟ اور کس رنگ میں شیطان تحریک کرتا ہے؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ جو انسان نیک ہوتا ہے اور جس نے اپنے آپ کو شیطان کے قبضہ میں نہیں دیا ہوتا بلکہ اس کا تعلق ملائکہ سے ہی ہوتا ہے اس کو شیطان نیک